Quran aur hadith

​منکرین حدیث کا ایک دھوکہ

—————————

(حافظ عبيد الله) 
 منکرینِ حدیث کا یہ وطیرہ بھی رہا ہے کہ وہ حدیث اور کتب حدیث کے بارے میں شکوک وشبہات پھیلانے کے لئے قرآن کانام لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ حدیث کے صحیح ہونے کے لئے یہ ضروری ہے کہ اس میں بیان کردہ مضمون قرآن میں ہو ۔ یہ صرف ایک دھوکہ ہے ورنہ قرآن تو خود کہتا ہے کہ {من یطع الرسول فقد اطاع اللّٰہ (النسائ:۸۰)}جس نے رسول صلى الله عليه وسلم  کی اطاعت کی پس اس نے اللہ کی اطاعت کی۔ یہ نہیں فرمایا کہ ’’جس نے اللہ کی اطاعت کی اس نے رسول کی اطاعت کی‘‘ بلکہ رسول صلى الله عليه وسلم  کی اطاعت کو اللہ کی اطاعت کہا گیا ، نہ ہی یہ کہا گیا کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کی صرف اس بات میں اطاعت کرنی ہے جس کا ذکر قرآن میں ہو ، اور جس بات کا ذکر قرآن میں نہ ہو وہ نہیں ماننی۔ 

  قرآن کا حکم تو یہ ہے {قُل اطیعو اللّٰہ واطیعوا الرسول واولی الامر منکم فان تنازعتم فی شيء فردوہ الی اللّٰہ والرسول ان کنتم تؤمنون باللّٰہ والیوم الآخر (النسائ:۵۹)} آپ کہہ دیجیے! اطاعت کرو اللہ کی اور رسول (صلى الله عليه وسلم ) کی اور ان کی جو تم میں سے صاحب اختیار ہوں، پس اگر تمہارے درمیان کسی چیز میں اختلاف ہوجائے تو اسے اللہ اور اس کے رسول کی طرف لوٹاؤ اگر تم واقعی اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتے ہو۔

 اس میں ’’اللہ کی اطاعت‘‘ اور ’’رسول کی اطاعت‘‘ دونوں کو الگ الگ بیان کیا گیا ہے نیز اختلاف کی صورت میں بھی ’’اللہ‘‘ اور ’’رسول‘‘ کی طرف رجوع کرنے کو الگ الگ بیان کیا گیا ہے ، جو اس بات کی واضح دلیل ہے کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کی بات (حدیث) بھی اللہ کی بات (قرآن)کی طرح اپنی جگہ مستقل حجت ہے ۔ 

  قرآن تو یہ کہتا ہے کہ  {لقد کان  لکم  فی رسول اللّٰہ  اسو ۃ حسنۃ لمن کان یرجوا اللّٰہ والیوم الآخر(الاحزاب:۲۱)} بلا شبہ تمہارے لیے رسول ( صلي الله عليه وسلم ) کی زندگی میں بہترین نمونہ ہے (پیروی کے لیے) ایسے شخص کے لیے جو اللہ تعالیٰ اور روزِ آخرت پر ایمان رکھتا ہے۔

  اس آیت میں لفظ ’’رسول اللہ‘‘ ایک جامع لفظ ہے جو نبی e کی ساری زندگی کو محیط ہے۔ اس میں آپ کی قولی اور فعلی تمام احادیث شامل ہیں آیت کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص اللہ تعالیٰ اور روز آخرت پر ایمان رکھتا ہے اس پر لازم ہے کہ وہ رسول اللہ صلي الله عليه وسلم کی پوری زندگی کو نمونہ بنائے اور یہ تب ممکن ہے کہ وہ نبی صلي الله عليه وسلم کی احادیث کو فی نفسہ اور مستقل حجت تسلیم کرے۔ اگر وہ انہیں  حجت تسلیم نہیں کرتا یا اپنی خواہش کے تابع ’’تحقیق‘‘ کرتا ہے اور یہ قید لگاتا ہے کہ میں قرآن کو دیکھوں گا اگر حدیث میں بیان کردہ بات یا مضمون اس میں ملا تو حدیث کو مانوں گا ورنہ نہیں تو ایسا شخص اس آیت اور دوسری آیات کا منکر ہے ۔ 

  قرآن کا فیصلہ تو یہ ہے کہ {ومن یشاقق الرسول من بعد ما تبین لہ الہدیٰ ویتبع غیر سبیل المؤمنین نولہ ما تولّیٰ ونصلہ جہنم (النسائ: ۱۱۵)} اور جو کوئی رسول کی مخالفت کرے۔ اس کے بعد کہ اس کے لیے سیدھا راستہ خوب واضح ہوچکا اور مومنوں کی راہ کے علاوہ کسی دوسری راہ پر چلنے لگے تو ہم اسے اسی طرف پھیر دیں گے جس طرف وہ پھرے گا اور اسے جہنم میں داخل کریں گے۔ 

 اس آیت کریمہ میں صرف رسول اور اس کی ہدایت کا ذکر کیا گیا ہے ، کتاب اللہ کا ذکر نہیں کیا گیا کیونکہ ’’مُشاقّۃٌ‘‘ در اصل عملی مخالفت کو کہاجاتا ہے، یعنی رسول اللہ صلي الله عليه وسلم  نے جو اعمال کیے اگر کوئی شخص ان کے خلاف کرتا ہے تو اس کے لیے وعید اور تخویف ہے، رسول اللہ صلي الله عليه وسلم  کے اعمال احادیث میں مذکور ہیں ۔ لفظ ’’الہدیٰ‘‘ بھی عام ہے اور کتاب اللہ اور حدیث دونوں ہدایت کے سرچشمے ہیں۔ اس ہدایت کی مخالفت جہنم میں داخل ہونے کا سبب بنتی ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ رسول اللہ e کے اعمال اور ہدایت کی مخالفت کرنے والا اس کی حجیت سے انکار کرتا ہے ، لہٰذا منکرینِ حجیتِ حدیث اس آیت کے منکر ہیں ۔ 

  اگر تھوڑا سا غور کیا جائے تو موضوع احادیث کا وجود بذات خود حجیتِ احادیث کے لیے ایک قوی دلیل ہے جس کا منکرینِ حدیث بھی انکار نہیں کرسکتے۔ وہ اس طرح کہ اگر احادیث شرعی حجت نہ ہوتیں تو پھر احادیث گھڑنے کا کیا فائدہ؟ جب اصلی سکہ کی بازار میں قدر وقیمت ہوگی تو کھوٹے سکے بنائے جائیں گے۔ منکرین حدیث بھی اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ ایک دور ایسا آیا کہ جب موضوع روایات کا سیلاب امڈآیا تھا جس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ اس وقت امت کی اکثریت حجیتِ احادیث کی قائل تھی۔ 

  ایک مسلمان کے لئے ہر اُس بات پر ایمان لانا اور اسے تسلیم کرنا واجب ہے جو نبی کریم صلي الله عليه وسلم  سے صحیح اور معتمد طریقے سے ثابت ہو، چاہے اس کا تعلق آپ صلي الله عليه وسلم  سے پہلے ہونے والے واقعات سے ہو یا قیامت تک آنے والے حوادث سے ہو ، جو شخص کسی ایسی بات کی تکذیب کرے جو نبی کریم صلي الله عليه وسلم  سے ثابت ہو تو ایسے شخص کا ایمان مشکوک ہے کیونکہ محمد صلي الله عليه وسلم  کی رسالت کی گواہی دینا اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ آپ صلي الله عليه وسلم کی ان تمام باتوں میں تصدیق کی جائے جن کی آپ صلي الله عليه وسلم نے خبر دی، نبی کریم صلي الله عليه وسلم  نے فرمایا :  ’’اقاتل الناس حتی یشہدوا ان لا الہ الا اللّٰہ ویؤمنوا بی وبما جِئتُ بہ …‘‘   میں لوگوں کے ساتھ اس وقت تک قتال کروں گا جب تک وہ اللہ کی وحدانیت کی گواہی نہ دیں اور جب تک مجھ پر اور جو کچھ میں لے کر آیا ہوں اُس پر ایمان نہ لے آئیں  (صحیح مسلم، کتاب الایمان: حدیث نمبر 34)  اس حدیث شریف میں یہ نہیں فرمایا گیا کہ صرف قرآن کریم پر ایمان لانا ہی کافی ہے بلکہ فرمایا کہ ’’جو کچھ میں لے کر آیا ہوں‘‘ اُس کو ماننا بھی ضروری ہے، اسی بات کی مزید تشریح دوسری احادیث سے بھی ہوتی ہے، حضرت ابورافع رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلي الله عليه وسلم نے فرمایا:  لا ألفِیَنّ احدَکُم مُتَّکِئاً علیٰ أرِیکَتِہ یأتیہ الأمر من أمری مِمّا أمرتُ بہ أو نہیتُ عنہ فیقُولُ لا نَدرِي ما وَجدنا في کتاب اللّٰہ اتبعناہ‘‘  میں تم سے کسی کو ایسا نہ پاؤں کہ وہ اپنی مسند پر تکیہ لگائے بیٹھا ہو اور اس کے پاس میری بات پہنچے جس کا میں نے حکم دیا ہو یا اُس سے منع کیا ہو اور وہ شخص کہے کہ ہم نہیں جانتے ہم تو اسی بات کی پیروی کریں گے جو اللہ کی کتاب میں ہے (سنن ابی داود، حدیث نمبر: 4605 ،سنن ترمذی، حدیث نمبر: 2663، سنن ابن ماجۃ، حدیث نمبر: 13،  مسند احمد، حدیث نمبر:23876، المستدرک للحاکم، حدیث نمبر:368)، اسی طرح حضرت مقدام بن معدیکرب رضی اللہ عنہ روایت فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلي الله عليه وسلم نے فرمایا:   مجھے ایک (اللہ کی) کتاب دی گئی ہے اور اس کے برابر یا اس کی مثل اور چیز بھی دی گئی ہے ، قریب ہے کہ اپنی مسند پر تکیہ لگائے ایک پیٹ بھرا شخص یوں کہے کہ ہمارے اور تمہارے درمیان یہ کتاب (یعنی قرآن) ہی کافی ہے، جوچیز اس میں حلال ہے اسے حلال سمجھیں گے اور جو اس میں حرام ہے ہم اُسے حرام سمجھیں گے ، خبردار! معاملہ اس طرح نہیں ہے ، آگاہ رہو! کچلیوں والا درندہ حلال نہیں ہے اور نہ گھریلو گدھا اور نہ ذِمی کی گری پڑی چیزمگر اس صورت میں کہ جس کی چیز ہے وہ اُس سے بے نیاز ہو جائے ،اور جو آدمی کسی قوم کا مہمان بنا اور انہوں نے اُس کی ضیافت نہیں کی تو اُس کے لئے درست ہے کہ میزبانی کے بقدر اُن سے وصول کرے   (سنن ابي داود ، حدیث نمبر4604 ، السنن الکبریٰ للبیہقي، حدیث نمبر19469،صحیح ابن حِبان، حدیث نمبر 12 )، اسی طرح صحیح مسلم میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ’’رسول اللہ صلي الله عليه وسلم  نے ہر کچلیوں والے درندے اور ہر پنجوں والے پرندے سے (یعنی کھانے سے) منع فرمایا‘‘  (صحیح مسلم، باب تحریم أکل کل ذي ناب من السباع وکل ذي مخلب من الطیور، حدیث نمبر 1934) اب غور فرمائیں قرآن کریم نے کھانے والی جو حرام چیزیں بیان کی ہیں ان کے اندر مُردار، بہنے والا خون، خنزیر کا گوشت اور غیر اللہ کے نام پر ذبح کیا جانے والا جانور جیسی چند چیزوں کا ذکر ہے لیکن حدیث شریف نے کچلیوں سے شکار کرنے والے جانور کو حرام قرار دے کر شیر ، چیتے ، گیدڑ اور دوسرے درندوں کا حرام ہونا بتا دیا (کچلیاں اُن دانتوں کو کہاجاتا ہے جو درندوں کے مُنہ میں قدرے لمبے اور نوکیلے ہوتے ہیں)، اسی طرح پنجے سے شکار کرنے والے پرندوں کے حرام ہونے کا قانون پیش کرکے باز، شکرہ، اُلو، چیل اور گدھ وغیرہ کو حرام قرار دے دیا نیز گھریلو گدھے کا حرام ہونا بھی حدیث میں بیان کیا گیا ، وہ لوگ جو یہ کہتے ہیں کہ ہم تو صرف اسی کو حرام سمجھیں گے جس کا حرام ہونا قرآن نے بیان کیا ہے تو انہیں چاہیے کہ وہ گیدڑ، لومڑ، کُتے، چیل اور گدھ وغیرہ کا گوشت کھایا کریں کیونکہ ان کی حرمت تو حدیث نے بیان کی ہے قرآن نے نہیں ، اسی طرح قرآن کریم نے تو مطلقاً ہر مرد وعورت کو بلا  ناغہ  نماز اور روزے کا حکم دیا ہے، لیکن نبی کریم e کی احادیث نے بتایا کہ حیض اور نفاس والی عورت کو جب تک وہ پاک نہ ہوجائے نماز سے مکمل رخصت دے دی گئی ہے، اور اس حالت میں رمضان کے روزے بھی نہیں رکھے گی بلکہ بعد میں قضاء کرے گی ، کیا ایک عورت کو بچے کی پیدائش کے بعد تقریباً چالیس دن تک اور ہر مہینے میں حیض کے چھ سات دنوں کے لئے نماز معاف کردینا نیز رمضان کے مہینے میں روزے رکھنے سے منع کردینا ایک معمولی حکم ہے؟قرآن کریم میں تو صرف نماز قائم کرنے، زکوٰۃ وحج اداکرنے کا حکم ہے لیکن نمازوں کی رکعات اور ادائیگی کی تفصیل کہاں سے ملے گی؟ زکوٰۃ کی تفصیل کے لئے کس طرف رجوع کیا جائے گا؟ حج وعمرہ کی ادائیگی کا طریقہ کہاں ملے گا؟ مختلف صحابہ کرام ؓ  روایت کرتے ہیں کہ جب نبی کریم صلي الله عليه وسلم  نے یہ اعلان فرمایا کہ:یا ایہا الناس کُتبَ علیکُم الحج…اے لوگو تم پر حج فرض کیا گیا ہے ، تو کسی نے پوچھا کہ :اے اللہ کے رسول کیا ہرسال حج کرنا فرض ہے؟ تو آپ صلي الله عليه وسلم  خاموش رہے (یعنی کوئی جواب نہ دیا) لیکن سوال کرنے والے نے متعدد بار یہی سوال دُہرایا تو آپ صلي الله عليه وسلم  نے فرمایا: لو قُلتُ نَعم لوَجَبت … اگر میں ’’ہاں‘‘ کہہ دوں تو پھر ہر سال کرنا واجب ہوجاتا، اور اگر ایسا ہوجائے تو تم اس پر عمل نہیں کرسکوگے، لہذا حج (زندگی) میں ایک ہی بار فرض ہے … الی آخر الحدیث  (سنن نسائی، حدیث نمبر 2619 اور 2620 ،سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر:2885 وغیرہا من الکتب)  غور فرمائیں! سوال ہوتا ہے کہ کیا ہر سال حج کرنا ضروری ہے؟ تو جواب میں فرمایا جاتا ہے کہ اگر میں ’’ہاں‘‘ کہہ دوں تو پھر ہر سال کرنا ضروری ہوجائے گا ، یعنی نبی کریم صلي الله عليه وسلم  کی ’’ہاں‘‘ سے ایک چیز واجب ہوسکتی ہے، نیز قرآن کریم نے تو صرف یہ فرمایا ہے کہ ہر صاحب استطاعت پر حج فرض ہے، قرآن کریم میں یہ نہیں کہ صرف ایک بار فرض ہے ، لیکن نبی کریم صلي الله عليه وسلم  نے ہمیں بتایا کہ حج زندگی میں صرف ایک بار فرض ہے۔
(جاری ہے)

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s