Uncategorized

Quran aur hadith

​منکرین حدیث کا ایک دھوکہ

—————————

(حافظ عبيد الله) 
 منکرینِ حدیث کا یہ وطیرہ بھی رہا ہے کہ وہ حدیث اور کتب حدیث کے بارے میں شکوک وشبہات پھیلانے کے لئے قرآن کانام لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ حدیث کے صحیح ہونے کے لئے یہ ضروری ہے کہ اس میں بیان کردہ مضمون قرآن میں ہو ۔ یہ صرف ایک دھوکہ ہے ورنہ قرآن تو خود کہتا ہے کہ {من یطع الرسول فقد اطاع اللّٰہ (النسائ:۸۰)}جس نے رسول صلى الله عليه وسلم  کی اطاعت کی پس اس نے اللہ کی اطاعت کی۔ یہ نہیں فرمایا کہ ’’جس نے اللہ کی اطاعت کی اس نے رسول کی اطاعت کی‘‘ بلکہ رسول صلى الله عليه وسلم  کی اطاعت کو اللہ کی اطاعت کہا گیا ، نہ ہی یہ کہا گیا کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کی صرف اس بات میں اطاعت کرنی ہے جس کا ذکر قرآن میں ہو ، اور جس بات کا ذکر قرآن میں نہ ہو وہ نہیں ماننی۔ 

  قرآن کا حکم تو یہ ہے {قُل اطیعو اللّٰہ واطیعوا الرسول واولی الامر منکم فان تنازعتم فی شيء فردوہ الی اللّٰہ والرسول ان کنتم تؤمنون باللّٰہ والیوم الآخر (النسائ:۵۹)} آپ کہہ دیجیے! اطاعت کرو اللہ کی اور رسول (صلى الله عليه وسلم ) کی اور ان کی جو تم میں سے صاحب اختیار ہوں، پس اگر تمہارے درمیان کسی چیز میں اختلاف ہوجائے تو اسے اللہ اور اس کے رسول کی طرف لوٹاؤ اگر تم واقعی اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتے ہو۔

 اس میں ’’اللہ کی اطاعت‘‘ اور ’’رسول کی اطاعت‘‘ دونوں کو الگ الگ بیان کیا گیا ہے نیز اختلاف کی صورت میں بھی ’’اللہ‘‘ اور ’’رسول‘‘ کی طرف رجوع کرنے کو الگ الگ بیان کیا گیا ہے ، جو اس بات کی واضح دلیل ہے کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کی بات (حدیث) بھی اللہ کی بات (قرآن)کی طرح اپنی جگہ مستقل حجت ہے ۔ 

  قرآن تو یہ کہتا ہے کہ  {لقد کان  لکم  فی رسول اللّٰہ  اسو ۃ حسنۃ لمن کان یرجوا اللّٰہ والیوم الآخر(الاحزاب:۲۱)} بلا شبہ تمہارے لیے رسول ( صلي الله عليه وسلم ) کی زندگی میں بہترین نمونہ ہے (پیروی کے لیے) ایسے شخص کے لیے جو اللہ تعالیٰ اور روزِ آخرت پر ایمان رکھتا ہے۔

  اس آیت میں لفظ ’’رسول اللہ‘‘ ایک جامع لفظ ہے جو نبی e کی ساری زندگی کو محیط ہے۔ اس میں آپ کی قولی اور فعلی تمام احادیث شامل ہیں آیت کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص اللہ تعالیٰ اور روز آخرت پر ایمان رکھتا ہے اس پر لازم ہے کہ وہ رسول اللہ صلي الله عليه وسلم کی پوری زندگی کو نمونہ بنائے اور یہ تب ممکن ہے کہ وہ نبی صلي الله عليه وسلم کی احادیث کو فی نفسہ اور مستقل حجت تسلیم کرے۔ اگر وہ انہیں  حجت تسلیم نہیں کرتا یا اپنی خواہش کے تابع ’’تحقیق‘‘ کرتا ہے اور یہ قید لگاتا ہے کہ میں قرآن کو دیکھوں گا اگر حدیث میں بیان کردہ بات یا مضمون اس میں ملا تو حدیث کو مانوں گا ورنہ نہیں تو ایسا شخص اس آیت اور دوسری آیات کا منکر ہے ۔ 

  قرآن کا فیصلہ تو یہ ہے کہ {ومن یشاقق الرسول من بعد ما تبین لہ الہدیٰ ویتبع غیر سبیل المؤمنین نولہ ما تولّیٰ ونصلہ جہنم (النسائ: ۱۱۵)} اور جو کوئی رسول کی مخالفت کرے۔ اس کے بعد کہ اس کے لیے سیدھا راستہ خوب واضح ہوچکا اور مومنوں کی راہ کے علاوہ کسی دوسری راہ پر چلنے لگے تو ہم اسے اسی طرف پھیر دیں گے جس طرف وہ پھرے گا اور اسے جہنم میں داخل کریں گے۔ 

 اس آیت کریمہ میں صرف رسول اور اس کی ہدایت کا ذکر کیا گیا ہے ، کتاب اللہ کا ذکر نہیں کیا گیا کیونکہ ’’مُشاقّۃٌ‘‘ در اصل عملی مخالفت کو کہاجاتا ہے، یعنی رسول اللہ صلي الله عليه وسلم  نے جو اعمال کیے اگر کوئی شخص ان کے خلاف کرتا ہے تو اس کے لیے وعید اور تخویف ہے، رسول اللہ صلي الله عليه وسلم  کے اعمال احادیث میں مذکور ہیں ۔ لفظ ’’الہدیٰ‘‘ بھی عام ہے اور کتاب اللہ اور حدیث دونوں ہدایت کے سرچشمے ہیں۔ اس ہدایت کی مخالفت جہنم میں داخل ہونے کا سبب بنتی ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ رسول اللہ e کے اعمال اور ہدایت کی مخالفت کرنے والا اس کی حجیت سے انکار کرتا ہے ، لہٰذا منکرینِ حجیتِ حدیث اس آیت کے منکر ہیں ۔ 

  اگر تھوڑا سا غور کیا جائے تو موضوع احادیث کا وجود بذات خود حجیتِ احادیث کے لیے ایک قوی دلیل ہے جس کا منکرینِ حدیث بھی انکار نہیں کرسکتے۔ وہ اس طرح کہ اگر احادیث شرعی حجت نہ ہوتیں تو پھر احادیث گھڑنے کا کیا فائدہ؟ جب اصلی سکہ کی بازار میں قدر وقیمت ہوگی تو کھوٹے سکے بنائے جائیں گے۔ منکرین حدیث بھی اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ ایک دور ایسا آیا کہ جب موضوع روایات کا سیلاب امڈآیا تھا جس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ اس وقت امت کی اکثریت حجیتِ احادیث کی قائل تھی۔ 

  ایک مسلمان کے لئے ہر اُس بات پر ایمان لانا اور اسے تسلیم کرنا واجب ہے جو نبی کریم صلي الله عليه وسلم  سے صحیح اور معتمد طریقے سے ثابت ہو، چاہے اس کا تعلق آپ صلي الله عليه وسلم  سے پہلے ہونے والے واقعات سے ہو یا قیامت تک آنے والے حوادث سے ہو ، جو شخص کسی ایسی بات کی تکذیب کرے جو نبی کریم صلي الله عليه وسلم  سے ثابت ہو تو ایسے شخص کا ایمان مشکوک ہے کیونکہ محمد صلي الله عليه وسلم  کی رسالت کی گواہی دینا اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ آپ صلي الله عليه وسلم کی ان تمام باتوں میں تصدیق کی جائے جن کی آپ صلي الله عليه وسلم نے خبر دی، نبی کریم صلي الله عليه وسلم  نے فرمایا :  ’’اقاتل الناس حتی یشہدوا ان لا الہ الا اللّٰہ ویؤمنوا بی وبما جِئتُ بہ …‘‘   میں لوگوں کے ساتھ اس وقت تک قتال کروں گا جب تک وہ اللہ کی وحدانیت کی گواہی نہ دیں اور جب تک مجھ پر اور جو کچھ میں لے کر آیا ہوں اُس پر ایمان نہ لے آئیں  (صحیح مسلم، کتاب الایمان: حدیث نمبر 34)  اس حدیث شریف میں یہ نہیں فرمایا گیا کہ صرف قرآن کریم پر ایمان لانا ہی کافی ہے بلکہ فرمایا کہ ’’جو کچھ میں لے کر آیا ہوں‘‘ اُس کو ماننا بھی ضروری ہے، اسی بات کی مزید تشریح دوسری احادیث سے بھی ہوتی ہے، حضرت ابورافع رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلي الله عليه وسلم نے فرمایا:  لا ألفِیَنّ احدَکُم مُتَّکِئاً علیٰ أرِیکَتِہ یأتیہ الأمر من أمری مِمّا أمرتُ بہ أو نہیتُ عنہ فیقُولُ لا نَدرِي ما وَجدنا في کتاب اللّٰہ اتبعناہ‘‘  میں تم سے کسی کو ایسا نہ پاؤں کہ وہ اپنی مسند پر تکیہ لگائے بیٹھا ہو اور اس کے پاس میری بات پہنچے جس کا میں نے حکم دیا ہو یا اُس سے منع کیا ہو اور وہ شخص کہے کہ ہم نہیں جانتے ہم تو اسی بات کی پیروی کریں گے جو اللہ کی کتاب میں ہے (سنن ابی داود، حدیث نمبر: 4605 ،سنن ترمذی، حدیث نمبر: 2663، سنن ابن ماجۃ، حدیث نمبر: 13،  مسند احمد، حدیث نمبر:23876، المستدرک للحاکم، حدیث نمبر:368)، اسی طرح حضرت مقدام بن معدیکرب رضی اللہ عنہ روایت فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلي الله عليه وسلم نے فرمایا:   مجھے ایک (اللہ کی) کتاب دی گئی ہے اور اس کے برابر یا اس کی مثل اور چیز بھی دی گئی ہے ، قریب ہے کہ اپنی مسند پر تکیہ لگائے ایک پیٹ بھرا شخص یوں کہے کہ ہمارے اور تمہارے درمیان یہ کتاب (یعنی قرآن) ہی کافی ہے، جوچیز اس میں حلال ہے اسے حلال سمجھیں گے اور جو اس میں حرام ہے ہم اُسے حرام سمجھیں گے ، خبردار! معاملہ اس طرح نہیں ہے ، آگاہ رہو! کچلیوں والا درندہ حلال نہیں ہے اور نہ گھریلو گدھا اور نہ ذِمی کی گری پڑی چیزمگر اس صورت میں کہ جس کی چیز ہے وہ اُس سے بے نیاز ہو جائے ،اور جو آدمی کسی قوم کا مہمان بنا اور انہوں نے اُس کی ضیافت نہیں کی تو اُس کے لئے درست ہے کہ میزبانی کے بقدر اُن سے وصول کرے   (سنن ابي داود ، حدیث نمبر4604 ، السنن الکبریٰ للبیہقي، حدیث نمبر19469،صحیح ابن حِبان، حدیث نمبر 12 )، اسی طرح صحیح مسلم میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ’’رسول اللہ صلي الله عليه وسلم  نے ہر کچلیوں والے درندے اور ہر پنجوں والے پرندے سے (یعنی کھانے سے) منع فرمایا‘‘  (صحیح مسلم، باب تحریم أکل کل ذي ناب من السباع وکل ذي مخلب من الطیور، حدیث نمبر 1934) اب غور فرمائیں قرآن کریم نے کھانے والی جو حرام چیزیں بیان کی ہیں ان کے اندر مُردار، بہنے والا خون، خنزیر کا گوشت اور غیر اللہ کے نام پر ذبح کیا جانے والا جانور جیسی چند چیزوں کا ذکر ہے لیکن حدیث شریف نے کچلیوں سے شکار کرنے والے جانور کو حرام قرار دے کر شیر ، چیتے ، گیدڑ اور دوسرے درندوں کا حرام ہونا بتا دیا (کچلیاں اُن دانتوں کو کہاجاتا ہے جو درندوں کے مُنہ میں قدرے لمبے اور نوکیلے ہوتے ہیں)، اسی طرح پنجے سے شکار کرنے والے پرندوں کے حرام ہونے کا قانون پیش کرکے باز، شکرہ، اُلو، چیل اور گدھ وغیرہ کو حرام قرار دے دیا نیز گھریلو گدھے کا حرام ہونا بھی حدیث میں بیان کیا گیا ، وہ لوگ جو یہ کہتے ہیں کہ ہم تو صرف اسی کو حرام سمجھیں گے جس کا حرام ہونا قرآن نے بیان کیا ہے تو انہیں چاہیے کہ وہ گیدڑ، لومڑ، کُتے، چیل اور گدھ وغیرہ کا گوشت کھایا کریں کیونکہ ان کی حرمت تو حدیث نے بیان کی ہے قرآن نے نہیں ، اسی طرح قرآن کریم نے تو مطلقاً ہر مرد وعورت کو بلا  ناغہ  نماز اور روزے کا حکم دیا ہے، لیکن نبی کریم e کی احادیث نے بتایا کہ حیض اور نفاس والی عورت کو جب تک وہ پاک نہ ہوجائے نماز سے مکمل رخصت دے دی گئی ہے، اور اس حالت میں رمضان کے روزے بھی نہیں رکھے گی بلکہ بعد میں قضاء کرے گی ، کیا ایک عورت کو بچے کی پیدائش کے بعد تقریباً چالیس دن تک اور ہر مہینے میں حیض کے چھ سات دنوں کے لئے نماز معاف کردینا نیز رمضان کے مہینے میں روزے رکھنے سے منع کردینا ایک معمولی حکم ہے؟قرآن کریم میں تو صرف نماز قائم کرنے، زکوٰۃ وحج اداکرنے کا حکم ہے لیکن نمازوں کی رکعات اور ادائیگی کی تفصیل کہاں سے ملے گی؟ زکوٰۃ کی تفصیل کے لئے کس طرف رجوع کیا جائے گا؟ حج وعمرہ کی ادائیگی کا طریقہ کہاں ملے گا؟ مختلف صحابہ کرام ؓ  روایت کرتے ہیں کہ جب نبی کریم صلي الله عليه وسلم  نے یہ اعلان فرمایا کہ:یا ایہا الناس کُتبَ علیکُم الحج…اے لوگو تم پر حج فرض کیا گیا ہے ، تو کسی نے پوچھا کہ :اے اللہ کے رسول کیا ہرسال حج کرنا فرض ہے؟ تو آپ صلي الله عليه وسلم  خاموش رہے (یعنی کوئی جواب نہ دیا) لیکن سوال کرنے والے نے متعدد بار یہی سوال دُہرایا تو آپ صلي الله عليه وسلم  نے فرمایا: لو قُلتُ نَعم لوَجَبت … اگر میں ’’ہاں‘‘ کہہ دوں تو پھر ہر سال کرنا واجب ہوجاتا، اور اگر ایسا ہوجائے تو تم اس پر عمل نہیں کرسکوگے، لہذا حج (زندگی) میں ایک ہی بار فرض ہے … الی آخر الحدیث  (سنن نسائی، حدیث نمبر 2619 اور 2620 ،سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر:2885 وغیرہا من الکتب)  غور فرمائیں! سوال ہوتا ہے کہ کیا ہر سال حج کرنا ضروری ہے؟ تو جواب میں فرمایا جاتا ہے کہ اگر میں ’’ہاں‘‘ کہہ دوں تو پھر ہر سال کرنا ضروری ہوجائے گا ، یعنی نبی کریم صلي الله عليه وسلم  کی ’’ہاں‘‘ سے ایک چیز واجب ہوسکتی ہے، نیز قرآن کریم نے تو صرف یہ فرمایا ہے کہ ہر صاحب استطاعت پر حج فرض ہے، قرآن کریم میں یہ نہیں کہ صرف ایک بار فرض ہے ، لیکن نبی کریم صلي الله عليه وسلم  نے ہمیں بتایا کہ حج زندگی میں صرف ایک بار فرض ہے۔
(جاری ہے)

Advertisements
Uncategorized

​এক গ্রাম্য লোকের ২৫ টি প্রশ্ন আররাসূলুল্লাহ (সাঃ) এর উত্তর !!

​এক গ্রাম্য লোকের ২৫ টি প্রশ্ন আর

রাসূলুল্লাহ (সাঃ) এর উত্তর !!

,

১) প্রশ্নঃ আমি ধনী হতে চাই ?

উঃ রাসূলুল্লাহ সাঃ ইরশাদ করলেন, অল্পতুষ্টি 

অবলম্বন কর, ধনী হয়ে যাবে।
২) প্রশ্নঃ আমি সবচেয়ে বড় আলেম

(ইসলামী জ্ঞানের অধিকারী) হতে চাই ?

উঃ রাসূলুল্লাহ সাঃ ইরশাদ করলেন, তাক্বওয়া 

অবলম্বন কর (আল্লাহ্ ভীরুতা) আলেম হয়ে যাবে।


৩) প্রশ্নঃ সম্মানী হতে চাই ?

উঃ রাসূলুল্লাহ সাঃ ইরশাদ করলেন, সৃষ্টির 

কাছে চাওয়া বন্ধ কর, সম্মানী হয়ে যাবে।
৪) প্রশ্নঃ ভাল মানুষ হতে চাই ?

উঃ রাসূলুল্লাহ সাঃ ইরশাদ করলেন, মানুষের 

উপকার কর।
৫) প্রশ্নঃ ন্যায়পরায়ণ হতে চাই ?

উঃ রাসূলুল্লাহ সাঃ ইরশাদ করলেন, যা নিজের জন্য পছন্দ কর, তা অন্যের জন্যেও পছন্দ কর৷
৬) প্রশ্নঃ শক্তিশালী হতে চাই ?

উঃ রাসূলুল্লাহ সাঃ ইরশাদ করলেন, আল্লাহর উপর ভরসা কর।
৭) প্রশ্নঃ আল্লাহর দরবারে বিশেষ মর্যাদার অধিকরী হতে চাই ?

উঃ রাসূলুল্লাহ সাঃ ইরশাদ করলেন, বেশী বেশী আল্লাহকে স্মরণ (জিকির) কর।
৮) প্রশ্নঃ রিযিকের প্রশস্ততা চাই ?

উঃ রাসূলুল্লাহ সাঃ ইরশাদ করলেন, সর্বদা অযু অবস্থায় থাকো।
৯) প্রশ্নঃ সমস্ত দোয়া কবুলের আশা করি ?

উঃ রাসূলুল্লাহ সাঃ ইরশাদ করলেন, হারাম খাবার হতে বিরত থাকো।
১০) প্রশ্নঃ ঈমানে পূর্ণতা কামনা করি ?

উঃ রাসূলুল্লাহ সাঃ ইরশাদ করলেন, চরিত্রবান হও ৷
১১) প্রশ্নঃ কেয়ামতের দিন আল্লাহর সাথে গুনামুক্ত হয়ে সাক্ষাৎ করতে চাই ?

উঃ রাসূলুল্লাহ সাঃ ইরশাদ করলেন, জানাবত তথা গোসল ফরজ হওয়ার সাথে সাথে গোসল করে নাও।
১২) প্রশ্নঃ গুনাহ্ কিভাবে কমে যাবে ?

উঃ রাসূলুল্লাহ সাঃ ইরশাদ করলেন, বেশী বেশী ইস্তেগফার (আল্লাহর নিকট কৃত গুনাহের জন্য

ক্ষমা প্রার্থনা) কর।
১৩) প্রশ্নঃ কেয়ামত দিবসে আলোতে থাকতে চাই ?

উঃ রাসূলুল্লাহ সাঃ ইরশাদ করলেন, জুলুম করা ছেড়ে দাও।
১৪) প্রশ্নঃ আল্লাহ্ তা’য়ালার অনুগ্রহ কামনা করি ?

উঃ রাসূলুল্লাহ সাঃ ইরশাদ করলেন, আল্লাহর বান্দাদের উপর দয়া-অনুগ্রহ কর।
১৫) প্রশ্নঃ আমি চাই আল্লাহ্ তা’য়ালা আমার দোষ-ত্রুটি গোপন রাখবেন ?

উঃ রাসূলুল্লাহ সাঃ ইরশাদ করলেন, অন্যের 

দোষ-ত্রুটি গোপন রাখ।
১৬) প্রশ্নঃ অপমানিত হওয়া থেকে রক্ষা পেতে চাই ?

উঃ রাসূলুল্লাহ সাঃ ইরশাদ করলেন, জিনা (ব্যাভিচার ইত্যাদি…) থেকে বেঁচে থাকো।
১৭) প্রশ্নঃ আল্লাহ্ এবং তাঁর রাসূল সাঃ এর নিকট প্রিয়

হতে চাই ?

উঃ রাসূলুল্লাহ সাঃ ইরশাদ করলেন, যা আল্লাহ্ এবং তাঁর রাসূলের (সাঃ) এর নিকট পছন্দনীয় তা নিজের

জন্য প্রিয় বানিয়ে নাও।
১৮) প্রশ্নঃ আল্লাহর একান্ত অনুগত হতে চাই ?

উঃ রাসূলুল্লাহ সাঃ ইরশাদ করলেন, ফরজ সমূহকে গুরুত্বের সহিত আদায় কর।
১৯) প্রশ্নঃ ইহ্সান সম্পাদন কারী হতে চাই ?

উঃ রাসূলুল্লাহ সাঃ ইরশাদ করলেন, এমন ভাবে আল্লাহর এবাদত কর যেন তুমি আল্লাহকে দেখছ অথবা তিনি তোমাকে দেখছেন।
২০) প্রশ্নঃ ইয়া ! রাসূলুল্লাহ (সাঃ) কোন বস্তু গুনাহ্ মাফে সহায়তা করবে ?

উঃ রাসূলুল্লাহ সাঃ ইরশাদ করলেন,

ক) কান্না (আল্লাহর নিকট কৃতগুনাহের জন্য)

খ) বিনয়

গ) অসুস্থতা।
২১) প্রশ্নঃ কোন জিনিষ দোযখের ভয়াবহ আগুনকে শীতল করবে ?

উঃ রাসূলুল্লাহ সাঃ ইরশাদ করলেন,

দুনিয়ার মুছিবত সমূহ।
২২) প্রশ্নঃ কোন কাজ আল্লাহর ক্রোধ ঠান্ডা করবে ?

উঃ রাসূলুল্লাহ সাঃ ইরশাদ করলেন, 

ক) গোপন দান।

খ) আত্মীয়তার সম্পর্ক রক্ষা।
২৩) প্রশ্নঃ সবচাইতে নিকৃষ্ট কি ?

উঃ রাসূলুল্লাহ সাঃ ইরশাদ করলেন, 

ক) দুশ্চরিত্র 

খ) কৃপণতা।
২৪) প্রশ্নঃ সবচাইতে উৎকৃষ্ট কি ?

উঃ রাসূলুল্লাহ সাঃ ইরশাদ করলেন, সৎ চরিত্র, বিনয়, এবং ধৈর্য্য ।
২৫) প্রশ্নঃ আল্লাহর ক্রোধ থেকে বাঁচার উপায় কি ?

উঃ রাসূলুল্লাহ সাঃ ইরশাদ করলেন, মানুষের উপর রাগান্বিত হওয়া পরিহার কর।
আল্লাহ্ তা’য়ালা আমাকে এবং আপনা‌দের সবাইকে আমল করার তৌফিক দান করুন ।

আমীন। ক‌পি ও শেয়ার করুন।

Uncategorized

ফজরের সুন্নত

ফজরের জামাআত শুরু হয়ে গেলে সুন্নাত পড়ার হুকুম

حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ، ح وَحَدَّثَنِي حَامِدُ بْنُ عُمَرَ الْبَكْرَاوِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ يَعْنِي ابْنَ زِيَادٍ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، كُلُّهُمْ عَنْ عَاصِمٍ، ح وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيُّ، عَنْ عَاصِمٍ الأَحْوَلِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَرْجِسَ، قَالَ دَخَلَ رَجُلٌ الْمَسْجِدَ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي صَلاَةِ الْغَدَاةِ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ فِي جَانِبِ الْمَسْجِدِ ثُمَّ دَخَلَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَلَمَّا سَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ يَا فُلاَنُ بِأَىِّ الصَّلاَتَيْنِ اعْتَدَدْتَ أَبِصَلاَتِكَ وَحْدَكَ أَمْ بِصَلاَتِكَ مَعَنَا �( رَوَاه مُسْلِمٌ فِىْ بَابِ كَرَاهَةِ الشُّرُوعِ فِي نَافِلَةٍ بَعْدَ شُرُوعِ الْمُؤَذِّنِ)

হাদীস নম্বর-৩৫২ : হযরত আব্দুল্লাহ বিন সারজিস
রা. বলেন: রসূলুল্লাহ স. ফজরের নামাযে ছিলেন, এমন সময় এক ব্যক্তি এসে মসজিদের এক প্রান্তে দাঁড়িয়ে দুই রাকাত (সুন্নাত) নামায আদায় করলো।
রসূলুল্লাহ স. নামায শেষ করে বললেন: হে অমুক! তোমার ফরয নামায হিসেবে তুমি কোনটা গণনা করলে? তোমার একাকী নামায, না আমাদের সাথের নামায?
(মুসলিম: ১৫২৪)

হাদীসটির স্তর : সহীহ। শাব্দিক কিছু তারতম্যসহ এ হাদীসটি আবু দাউদ, ইবনে মাজাহ এবং নাসাঈ শরীফেও বর্ণিত হয়েছে।
(জামিউল উসূল: ৪০৯২) 

সারসংক্ষেপ : এ হাদীস থেকে প্রমাণিত হয় যে,
ফজরের নামাযের ইকামাত শুরু হলে আর সুন্নাত পড়া যাবে না। এমনকি মসজিদের কোণেও নয়। আল্লামা শাব্বীর আহমাদ উসমানী রহ. এ হাদীসের ব্যাখ্যায় বলেন: قَوْلُه (فِىْ جَانِبِ الْمَسْجِدِ) إلخ: ظَاهِرُه يَرُدُّ عَلى مَنْ أجَازَ رَكْعَتَى الْفَجْرِ فِىْ زَاوِيَةٍ مِنْ زَوَايَا الْمَسْجِدِ فَالْأحْوَطُ الإجْتِنَابُ مِنْه এ হাদীসের প্রকাশ্য শব্দ তাদের মতমাত প্রত্যাখ্যান করে যারা মসজিদের কোণে দাঁড়িয়ে দু’রাকাত পড়ে নেয়ার অনুমতি দেয়। সুতরাং এর থেকে বেঁচে থাকাই সতর্কতার দাবী”।
(ফাতহুল মুলহিম: ৪/৪৫২)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ بُحَيْنَةَ، قَالَ أُقِيمَتْ صَلاَةُ الصُّبْحِ فَرَأَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَجُلاً يُصَلِّي وَالْمُؤَذِّنُ يُقِيمُ فَقَالَ � “� أَتُصَلِّي الصُّبْحَ أَرْبَعًا �”� (رَوَاه مُسْلِمٌ فِىْ بَابِ كَرَاهَةِ الشُّرُوعِ فِي نَافِلَةٍ بَعْدَ شُرُوعِ الْمُؤَذِّنِ)

হাদীস নম্বর-৩৫৩: হযরত মালেক বিন বুহাইনা
রা. বলেন: ফজরের জামাআত দাঁড়িয়ে গেলো। মুআজ্জিন ইকামাত দেয়া অবস্থায় রসূলুল্লাহ স. এক ব্যক্তিকে নামায পড়তে দেখে ইরশাদ করলেন: তুমি কি ফজরের নামায ৪ রাকাত পড়বে?
(মুসলিম: ১৫২৩)

হাদীসটির স্তর : সহীহ। শাব্দিক কিছু তারতম্যসহ এ হাদীসটি বুখারী, ইবনে মাজাহ এবং নাসাঈ শরীফেও বর্ণিত হয়েছে।
(জামিউল উসূল: ৪০৯১)

সারসংক্ষেপ : এ হাদীস থেকে প্রমাণিত হয় যে, ফজরের নামাযের ইকামাত শুরু হলে আর সুন্নাত পড়া যাবে না।

وَعَنْ أَبِي مُوسَى «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ  رَأَى رَجُلًا صَلَّى رَكْعَتِي الْغَدَاةِ حِينَ أَخَذَ الْمُؤَذِّنُ يُقِيمُ فَغَمَزَ النَّبِيُّ  صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْكِبَهُ وَقَالَ: أَلَا كَانَ هَذَا قَبْلَ ذَا.رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ.

হাদীস নম্বর-৩৫৪ : হযরত আবু মুসা রা. থেকে বর্ণিত, মুআজ্জিন যখন ইকামাত দিচ্ছেন তখন
রসূলুল্লাহ স. এক ব্যক্তিকে ফজরের সুন্নাত পড়তে দেখে তার কাঁধ ধরে ঝাঁকুনি দিয়ে বললেন: এটা আরও আগে পড়তে পারতে না? আল্লামা হাইসামী বলেন: হাদীসটি তবারানী তাঁর মু’জামে কাবীর ও আওসাতে বর্ণনা করেছেন এবং এর রাবীগণ ثقةٌ “নির্ভরযোগ্য”। (মাজমাউয যাওয়ায়েদ: ২৩৯৪)

হাদীসটির স্তর : সহীহ। আল্লামা হাইসামী বলেন: হাদীসটি তবারানী তাঁর মু’জামে কাবীর ও আওসাতে বর্ণনা করেছেন এবং এর রাবীগণ ثقةٌ “নির্ভরযোগ্য”। (মাজমাউয যাওয়ায়েদ: ২৩৯৪)

সারসংক্ষেপ : এ হাদীস থেকে প্রমাণিত হয় যে, ফজরের নামাযের ইকামাত শুরু হলে আর সুন্নাত পড়া যাবে না।

وحَدَّثَنَي أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ وَرْقَاءَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَلَا صَلَاةَ إِلَّا الْمَكْتُوبَةُ». وحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، وَابْنُ رَافِعٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا شَبَابَةُ، حَدَّثَنِي وَرْقَاءُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ (رَوَاه مُسْلِمٌ فِىْ بَابِ كَرَاهَةِ الشُّرُوعِ فِي نَافِلَةٍ بَعْدَ شُرُوعِ الْمُؤَذِّنِ)

হাদীস নম্বর-৩৫৫ : হযরত আবু হুরাইরা রা. থেকে বর্ণিত, রসূলুল্লাহ স. বলেন: নামাযের জামাআত দাঁড়িয়ে গেলে ফরয ব্যতীতহ কোন নামায নেই। মুহাম্মাদ বিন হােেতম এবং ইবনে রাফে’ শাবাবা সূত্রেও ওয়ারকা থেকে আমাকে এ হাদীসটি বর্ণনা করেছেন।
(মুসলিম: ১৫১৭)

হাদীসটির স্তর : সহীহ। শাব্দিক কিছু তারতম্যসহ এ হাদীসটি আবু দাউদ, নাসাঈ, তিরমিজী এবং ইবনে মাজাহ শরীফেও বর্ণিত হয়েছে।
(জামিউল উসূল: ৩৯৩৭)

সারসংক্ষেপ : উপরোল্লিখিত ৪টি হাদীস দ্বারা প্রমাণিত হয় যে, ফজরের জামাআত দাঁড়িয়ে গেলে আর সুন্নাত পড়া যাবে না; বরং ছুটে যাওয়া সুন্নাত সূর্য ওঠার পরে আদায় করতে হবে।
(তিরমিজী: ৪২৩)

এর বিপরীতে কোন কোন সাহাবায়ে কিরামের আমল এরূপ পাওয়া যায় যে, তাঁরা জামাআত দাঁড়ানোর পরে এলে মসজিদের কোণে দাঁড়িয়ে সংক্ষেপে দু’রাকাত নামায আদায় করে জামাআতে শরীক হতেন
এ মর্মে কিছু বর্ণনা নিম্নে পেশ করছি।

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خُزَيْمَةَ، وَفَهْدٌ , قَالَا: ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ الْهَادِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ، قَالَ: «خَرَجَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا مِنْ بَيْتِهِ , فَأُقِيمَتْ صَلَاةُ الصُّبْحِ , فَرَكَعَ رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ الْمَسْجِدَ وَهُوَ فِي الطَّرِيقِ , ثُمَّ دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَصَلَّى الصُّبْحَ مَعَ النَّاسِ»

হাদীস নম্বর-৩৫৬ : হযরত মুহাম্মাদ বিন কা’ব বলেন: হযরত ইবনে উমার রা. ঘর থেকে বের হলেন।
ততক্ষণে ফজরের জামাআত দাঁড়িয়ে গেছে। তিনি মসজিদে প্রবেশের পূর্বে দু’রাকাত নামায পড়ে নিলেন। অতঃপর মসজিদে প্রবেশ করে মানুষের সাথে ফজরের নামায পড়লেন।
(ত্বহাবী: ২২০২)

হাদীসটির স্তর : হাসান। এ হাদীসের রাবীগণের মধ্যে শুধু আব্দুল্লাহ বিন সালেহ ব্যতীত সবাই-ই ثقة “নির্ভরযোগ্য”। মুহাম্মাদ বিন খুযাইমা ثقة “নির্ভরযোগ্য”। (ছিকাতু মিম্মাল লাম ইয়াকা’ ফিল কুতুবিস সিত্তাহ: রাবী নম্বর- ৯৭০০) ফাহাদ বিন সুলাইমানের ثقة ثبت “নির্ভরযোগ্য, মজবুত”।
(তারীখে দিমাশক: রাবী নম্বর- ৫৬৩৫) আর আব্দুল্লাহ বিন সালেহ-এর ব্যাপারে আল্লামা ইবনুল কত্তান বলেন: أنه مختلف فيه ، فحديثه حسن “তিনি বিতর্কিত; তবে তাঁর হাদীস হাসান”। (তাহজীবুত তাহজীব: আব্দুল্লাহ নামীয় রাবীদের ৪৪৮ নম্বর) অবশিষ্ট রাবীগণ সবাই-ই বুখারী-মুসলিমের নির্ভরযোগ্য রাবী।

সারসংক্ষেপ : এ হাদীস থেকে প্রমাণিত হয় যে, ফজরের জামাআত শুরু হয়ে গেলে হযরত ইবনে উমার রা. সুন্নাত পড়েছেন। যদিও সেটা মসজিদের ভিতরে নয়। এ থেকে আরও একটি বিষয় প্রমাণিত হয় যে, ফরযের জামাআত শুরু হয়ে গেলে ফরয ব্যতীত কোন নামায নেই বাণীটি হয়তো মসজিদের সঙ্গে সংশ্লিষ্ট। মসজিদের বাইরে কেউ কোন নামায পড়লে এ হাদীসে তার ওপর নিষেধাজ্ঞা জারী করা হয়নি

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بن إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بن أَبِي مُوسَى، قَالَ:”جَاءَ ابْنُ مَسْعُودٍ، وَالإِمَامُ يُصَلِّي الصُّبْحَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ إِلَى سَارِيَةٍ، وَلَمْ يَكُنْ صَلَّى رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ” رواه الطبراني ورجاله موثقون.

হাদীস নম্বর-৩৫৭ : আব্দুল্লাহ বিন আবু মুসা থেকে বর্ণিত: হযরত আব্দুল্লাহ বিন মাসউদ রা. এমন সময় মসজিদে আসলেন যখন ইমাম ফজরের নামাযে পড়ছিলেন। তখন তিনি একটি খুঁটির পাশে গিয়ে দু’রাকাত সুন্নাত নামায পড়লেন। এর আগে তিনি সুন্নাত পড়েননি। (তবারানী কাবীর: ৯২৭৯) আল্লামা হাইসামী রহ. বলেন: তবারানী (মু’জামে কাবীর কিতাবে) হাদীসটি বর্ণনা করেছেন এবং বর্ণনাকারীগণ সবাই-ই নির্ভরযোগ্য।
(মাজমাউয যাওয়ায়েদ: ২৩৯২)

হাদীসটির স্তর : সহীহ। আল্লামা হাইসামী রহ. বলেন: এ হাদীসের বর্ণনাকারীগণ সবাই-ই নির্ভরযোগ্য। (মাজমাউয যাওয়ায়েদ: ২৩৯২) ইমাম ত্বহাবী রহ.ও হাদীসটি শরহু মাআনিল আছার কিতাবে বর্ণনা করেছেন।
(ত্বহাবী : ২১৯৯)

সারসংক্ষেপ : এ হাদীস থেকে বুঝে আসে যে, ফজরের  জামাআত শুরু হয়ে গেলেও খুঁটির আড়ালে বা এমন কোন কোণায় সংক্ষিপ্ত দু’রাকাত পড়ে নেয়া যেতে পারে। কিন্তু এ আমলটি প্রকাশ্যভাবে পূর্ববর্ণিত মারফু’ হাদীসের সাথে সাংঘর্ষিক।

হযরত ইবনে উমার, ইবনে আব্বাস, আবু দারদা রা. এবং হযরত আবু উসমান নাহদী রা. থেকেও অনুরূপ আমল ত্বহাবী  শরীফে সহীহ সনদে বর্ণিত আছে।

عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ قُلْتُ لِعَطَاءٍ دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ وَالْإِمَامُ فِي الصَّلَاةِ وَلَمْ أَكُنْ رَكَعْتُهُمَا قَالَ فَارْكَعْهُمَا فِي الْمَسْجِدِ إِلَّا أَنْ تَخْشَى أَنْ تَفُوتَكَ الرَّكْعَةُ الَّتِي الْإِمَامُ فِيهَا

হাদীস নম্বর-৩৫৮ : হযরত ইবনে জুরাইজ বলেন: আমি হযরত আতাকে জিজ্ঞেস করলাম: আমি এমন সময়ে মসজিদে এলাম যখন ইমাম নামাযরত; অথচ আমি সুন্নাত দু’রাকাত পড়িনি। (এমতাবস্থায় আমি কী করব?) তিনি বললেন: ইমাম যে রাকাতে আছে উক্ত রাকাত ছুটে যাওয়ার আশঙ্কা না থাকলে পড়ে নাও।
(আব্দুর রযযাক: ৪০০৯)

হাদীসটির স্তর : সহীহ, মাকতু’। এ হাদীসের রাবীগণ সবাই-ই বুখারী-মুসলিমের রাবী।

এ ব্যপারে হানাফী মাজহাবের আমল হিদায়া কিতাবে এভাবে বর্ণিত আছে যে,

وَمَنْ انْتَهَى إلَى الْإِمَامِ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ وَهُوَ لَمْ يُصَلِّ رَكْعَتَيْ الْفَجْرِ : إنْ خَشَى أَنْ تَفُوتَهُ رَكْعَةٌ وَيُدْرِكَ الْأُخْرَى يُصَلِّي رَكْعَتَيْ الْفَجْرِ عِنْدَ بَابِ الْمَسْجِدِ ثُمَّ يَدْخُلُ ) لِأَنَّهُ أَمْكَنَهُ الْجَمْعُ بَيْنَ الْفَضِيلَتَيْنِ ( وَإِنْ خَشَى فَوْتَهُمَا دَخَلَ مَعَ الْإِمَامِ ) لِأَنَّ ثَوَابَ الْجَمَاعَةِ أَعْظَمُ ، وَالْوَعِيدَ بِالتَّرْكِ أَلْزَمُ

“যে ব্যক্তি ফজরের নামাযে এমন অবস্থায় উপস্থিত হলো যে, সে ফজরের সুন্নাত পড়েনি। যদি সে আশঙ্কা করে যে, সুন্নাত পড়লে তার এক রাকাত ছুটে যাবে আর এক রাকাত পাবে, তাহলে মসজিদের দরজার নিকটে দাঁড়িয়ে সুন্নাত পড়ে নিবে। এরপর জামাআতে অংশগ্রহণ করবে। কেননা, সে এভাবে উভয় ফযীলাতকে একত্রে গ্রহণের সুযোগ পেলো। আর যদি শেষ রাকাতও ছুটে যাওয়ার আশঙ্কা হয় তাহলে ইমামের সাথে জামাআতে শরীক হয়ে যাবে। কেননা জামাআতের সওয়াব বেশী এবং জামাআত তরকের ধমকিও গুরুতর”।
(হিদায়া: ১/১৫২)

একটি বিশ্লেষণ

ফজরের জামাআত শুরু হয়ে গেলেও আগে সুন্নাত পড়ে জামাআতে শরীক হওয়ার ব্যাপারে হানাফী মাজহাবের পক্ষে সাহাবায়ে কিরামের যে আমল পেশ করা হয়েছে, তার কোনটির মধ্যেও এ কথা উল্লেখ নেই যে, তাঁরা এক রাকাত ছুটে গেলেও আগে সুন্নাত পড়তেন। তখনকার ফজরের নামাযে যে ধরণের লম্বা কিরাত পড়ার বর্ণনা পাওয়া যায় তা থেকে বরং এটিই অনুমিত হয় যে, জামাআত শুরু হওয়ার সাথে সাথে কেউ মসজিদে এলে প্রথম রাকাতের রুকুর পূর্বে কয়েকবার সুন্নাত পড়তে পারবে। এ কারণে তার রাকাত ছুটবে না। ‘যে ব্যক্তি নামাযের এক রাকাত পেলো সে নামায পেলো’ হাদীস দ্বারা দলীল দেয়া হয়ে থাকে যে, জামাআতের এক রাকাত ছুটে গেলেও আগে সুন্নাত পড়ে নিবে। অথচ উপরোল্লিখিত ৪টি সহীহ মারফু’ হাদীসের বর্ণনা থেকে বুঝা যায় যে, জামাআত শুরু হয়ে গেলে কেউ নতুন করে সুন্নাত পড়তে দাঁড়াবে না। সুন্নাত পড়ার কারণে ইচ্ছে করে রাকাত ছাড়ার কোন সুযোগ উক্ত হাদীসগুলোতে খুঁজে পাওয়া যায় না। বরং ‘এক রাকাত পেলে নামায পাবে’ হাদীসের উদ্দেশ্য হলো: কেউ পূর্ণ জামাআত ধরার চেষ্টা করে যদি মসজিদে এসে পূর্ণ জামাআত ধরতে না পারে তবুও তিনি জামাআতের সওয়াব পেয়ে যাবেন।

আল্লামা শাব্বীর আহমাদ উসমানী রহ. ফাতহুল মুলহিমে এ সংক্রান্ত আলোচনায় বলেন:

وليعلم أن أداء ركعتى الفجر بشرط وجدان الركعة من المكتوبة فى زاوية من المسجد ليس هو أصل مذهبنا بل هو من تخريجات الأصحاب “জেনে রাখা উচিত, ফজরের ফরয নামায এক রাকাত পাওয়ার শর্তে মসজিদের কোণে দাঁড়িয়ে দু’রাকাত সুন্নাত পড়ে নেয়ার যে মত হানাফী মাজহাবে রয়েছে, এটা আমাদের মূল মাজহাব নয়; বরং মাজহাবের পরবর্তী ইমামদের ইজতিহাদ”। (ফাতহুল মুলহিম: ৪/৪৪৮) অতএব, উপরোল্লিখিত মারফু’ হাদীস ও সাহাবায়ে কিরামের আমলের সমন্বয় এভাবে হতে পারে যে, হযরত আবু মুসা থেকে বর্ণিত হাদীসের উদ্দেশ্য হলো: যদি কেউ ঘর থেকে সুন্নাত পড়ে না আসে তাহলে জামাআত শুরু হওয়ার আগে এসে সুন্নাত পড়া। ইবনে উমার রা.-এর হাদীসের উদ্দেশ্য হলো: যদি জামাআত দাঁড়িয়ে গিয়ে থাকে তাহলে মসজিদের বাইরে বা বারান্দা যদি মসজিদের মধ্যে অন্তর্ভুক্ত না হয়ে থাকে তাহলে সেখানে দাঁড়িয়ে সুন্নাত পড়ে নেয়া। আব্দুল্লাহ বিন সারজিস এবং মালেক বিন বুহাইনা রা.-এর হাদীসের উদ্দেশ্য হলো: যদি জামাআত শুরু হয়ে যায় আর মসজিদের বাইরে সুন্নাত পড়ার কোন ব্যবস্থা না থাকে তাহলে স্বাভাবিকভাবে সুন্নাত পড়বে না। যেহেতু ফরযের জামাআত শুরু হয়ে গেলে সুন্নাত পড়তে নিষেধ করা হয়েছে। (মুসলিম: ১৫১৭) বরং সূর্য ওঠার পরে সুন্নাত পড়ে নিবে। (তিরমিজী: ৪২৩) হযরত ইবনে মাসউদ রা. এবং হযরত আতা রহ.-এর হাদীসের উদ্দেশ্য হলো: ফজরের জামাআত শুরু হয়ে যাওয়ার পরে যদি মসজিদের বাইরে সুন্নাত পড়ার ভালো ব্যবস্থা না থাকে আর সে সুন্নাত ছাড়তেও না চায় তাহলে খুঁটির আড়ালে বা মসজিদের কোণায় এ শর্তে পড়তে পারে যে, ইমাম যে রাকাত পড়াচ্ছে তা যেন না ছোটে। পূর্বোক্ত নিয়ম অনুসরণ করা হলে মারফু’ হাদীস ও সাহাবায়ে কিরামের আমলের মধ্যে সমন্বয় সাধি হবে।
সাথে সাথে মুসল্লীদের সচেতনতা আরও বৃদ্ধি পাবে।

Uncategorized

Original meaning

ﺍﯾﮏ ﻣﺮﯾﺪ ﻧﮯ ﻣﻮﻻﻧﺎ ﺭﻭﻡ ﺳﮯ ﭼﻨﺪ ﺳﻮﺍﻻﺕ ﭘﻮﭼﮭﮯ ﺟﻦ ﮐﮯ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺑﮩﺖ
ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﻣﺨﺘﺼﺮ ﺍﻭﺭ ﺟﺎﻣﻊ ﺟﻮﺍﺑﺎﺕ ﻋﻄﺎ ﻓﺮﻣﺎﺋﮯ ﺟﻮ ﺑﺎﻟﺘﺮﺗﯿﺐ ﭘﯿﺶِ ﺧﺪﻣﺖ
ﮨﯿﮟ:
-1 ﺯﮨﺮ ﮐﺴﮯ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ؟
ﮨﺮ ﻭﮦ ﭼﯿﺰ ﺟﻮ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﺳﮯ ﺯﺍﺋﺪ ﮨﻮ، ﻭﮦ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﻟﺌﮯ ﺯﮨﺮ ﮨﮯ ﺧﻮﺍﮦ ﻭﮦ ﻗﻮﺕ ﻭ
ﺍﻗﺘﺪﺍﺭ ﮨﻮ، ﺩﻭﻟﺖ ﮨﻮ، ﺑﮭﻮﮎ ﮨﻮ،ﺍﻧﺎﻧﯿﺖ ﮨﻮ، ﻻﻟﭻ ﮨﻮ، ﺳﺴﺘﯽ ﻭ ﮐﺎﮨﻠﯽ ﮨﻮ، ﻣﺤﺒﺖ ﮨﻮ،
ﻋﺰﻡ ﻭ ﮨﻤﺖ ﮨﻮ، ﻧﻔﺮﺕ ﮨﻮ ﯾﺎ ﮐﭽﮫ ﺑﮭﯽ ﮨﻮ۔
-2 ﺧﻮﻑ ﮐﺲ ﺷﺌﮯ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﮨﮯ؟
ﻏﯿﺮﻣﺘﻮﻗﻊ ﺻﻮﺭﺕِ ﺣﺎﻝ ﮐﻮ ﻗﺒﻮﻝ ﻧﮧ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﺧﻮﻑ ﮨﮯ۔ ﺍﮔﺮ ﮨﻢ ﻏﯿﺮ ﻣﺘﻮﻗﻊ ﮐﻮ
ﻗﺒﻮﻝ ﮐﺮ ﻟﯿﮟ ﺗﻮ ﻭﮦ ﺍﯾﮏ ﺍﯾﮉﻭﻧﭽﺮ ﺍﯾﮏ ﻣﮩﻢ ﺟﻮﺋﯽ ﻣﯿﮟ ﺗﺒﺪﯾﻞ ﮨﻮﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ۔
-3 ﺣﺴﺪ ﮐﺴﮯ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ؟
ﺩﻭﺳﺮﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﺧﯿﺮ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﺑﯽ ﮐﻮ ﺗﺴﻠﯿﻢ ﻧﮧ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﺣﺴﺪ ﮨﮯ۔ ﺍﮔﺮ ﮨﻢ ﺍﺱ
ﺧﻮﺑﯽ ﮐﻮ ﺗﺴﻠﯿﻢ ﮐﺮﻟﯿﮟ ﺗﻮ ﯾﮧ ﺭﺷﮏ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﺴﭙﺮﯾﺸﻦ ﺑﻦ ﮐﺮ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﻟﺌﮯ ﺍﯾﮏ ﻣﮩﻤﯿﺰ ﮐﺎ
ﮐﺎﻡ ﺍﻧﺠﺎﻡ ﺩﯾﺘﯽ ﮨﮯ۔
-4 ﻏﺼﮧ ﮐﺲ ﺑﻼ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﮨﮯ؟
ﺟﻮ ﺍﻣﻮﺭ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﻗﺎﺑﻮ ﺳﮯ ﺑﺎﮨﺮ ﮨﻮﺟﺎﺋﯿﮟ، ﺍﻥ ﮐﻮ ﺗﺴﻠﯿﻢ ﻧﮧ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﻏﺼﮧ ﮨﮯ۔ ﺍﮔﺮ
ﮨﻢ ﺗﺴﻠﯿﻢ ﮐﺮﻟﯿﮟ ﺗﻮ ﻋﻔﻮ ﺩﺭﮔﺰﺭ ﺍﻭﺭ ﺗﺤﻤﻞ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺟﮕﮧ ﻟﮯ ﻟﯿﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔
-5 ﻧﻔﺮﺕ ﮐﺴﮯ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ ؟
ﮐﺴﯽ ﺷﺨﺺ ﮐﻮ ﺟﯿﺴﺎ ﮐﮧ ﻭﮦ ﮨﮯ، ﺗﺴﻠﯿﻢ ﻧﮧ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﻧﻔﺮﺕ ﮨﮯ۔ ﺍﮔﺮ ﮨﻢ ﻏﯿﺮ
ﻣﺸﺮﻭﻁ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﺍﺳﮯ ﺗﺴﻠﯿﻢ ﮐﺮﻟﯿﮟ ﺗﻮ ﺍﺳﮯ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﮩﯿﮟ ﮔﮯ۔
۔۔۔۔۔۔۔ﻭﺍﻟﻠﻪ ﺍﻋﻠﻢ ﺑﺎﻟﺼﻮﺍﺏ۔۔۔۔۔۔

Uncategorized

জনৈক ছাত্রের যে কবিতাটি শুনে ইমাম আহমাদ [রাহিমাহুল্লাহ] কেঁদেছিলেনঃ👇

জনৈক ছাত্রের যে কবিতাটি শুনে ইমাম আহমাদ [রাহিমাহুল্লাহ] কেঁদেছিলেনঃ👇
.
.
💦আমার রব্ব যদি জিজ্ঞাসেন,আমার অবাধ্যতায় লজ্জিত হও কি ?
আমার সৃষ্টিকূলের সামনে পাপগুলো লুকাও,আমার সামনে নিয়ে আসো ঠিকই।।
.
কী দিবো জবাব,হায় পরিতাপ!! কে বাঁচাবে আমায় !
নিজেকে বুঝাই সময়ে সময়ে মিথ্যামিথ্যি আশায়।।
.
কী হবে মরার পর?
যখন দেওয়া হবে কবর?
.
যেন আমার অশেষ আয়ু,মরণ কখনো আসবে না,
কিন্তু যখন আসবে মৃত্যু,কেউ বাঁচাতে পারবে না।।
.
চেহারাগুলো দেখে ভাববো কে দেবে মুক্তিপণ??
জিজ্ঞাসিত হব আমি কী করেছি আজীবন?
.
কী দেবো জবাব-ভুলেছি নিজের দ্বীন?
শুনতে কি পাইনি আল্লাহ্‌র কালাম ?
শুনতে কি পাইনি সূরা ক্বাফ,ইয়াসীন?
.
জানিনাই কি,কেয়ামত-হাশর,শেষ বিচারের দিন?
শুনিনাই কি মৃত্যুর পদধ্বনি?
.
তাওবা করছি হে রব্ব,তোমার বান্দা আমি।।
অতএব কে বাঁচাবে আমায় ?
আছেন শুধু মহাক্ষমাশীল রব্ব; যিনি সত্যের দিকে দেখাবেন পথ।।
তোমারই কাছে এসেছি ফিরে,হে রব্ব!
করছি তাওবা তোমারই কাছে,দাও মীযান ভারী করে।।
.
সহজ করে দাও হিসাব আমার,
তুমিই তো সেরা প্রভুর প্রভু,বিচারক হাশরের।।💦

Uncategorized

চেহারা পরিবর্তন

image

(১) ব্রাজিলের এক ব্যক্তি প্ল্যাস্টিক সার্জারি করে তার চেহারা পোষা কুকুরের মত করেছে। (http://goo.gl/u4Vbhu)

(২) মেক্সিকোর মারিয়া জোস ক্রিস্টিনা নামক এক নারী প্ল্যা্স্টিক সার্জারি করে নিজ চেহারা পরিবর্তন করে রক্ত চোষা ভ্যাম্পায়ারের মত করেছে। (http://goo.gl/Jjn950)

(৩) Erik Sprague নামক এক মার্কিনী চেহারা সার্জারি করে গুইসাপের মত করেছে। (https://goo.gl/6Os8Q9)

(৪) Dennis Avner নামক এক মার্কিনী তার চেহারা প্ল্যাস্টিক সার্জারি করে চেহারা বিড়ালের মত করেছে।  (https://goo.gl/iFXrlE)

এরকম আরো বহু উদহারণ আছে, কিন্তু ফেসবুকে দেওয়া সম্ভব হচ্ছে না।

আচ্ছা অমুসলিমদের মধ্যে চেহারা পরিবর্তন করে কুকুর-বিড়াল সাজার খুব ইচ্ছা, কিন্তু মুসলমানদের মধ্যে কি সেই ইচ্ছা আছে ? তাদের ধর্ম এ সম্পর্কে কি বলে ? জানতে ইচ্ছা রাখি….. (নয়ন চ্যাটার্জি)

Uncategorized

কুরবানি

কুরবানী একটি গুরুত্বপূর্ণ ইবাদত। এটি আদায় করা ওয়াজিব।
সামর্থ্য থাকা সত্ত্বেও যে ব্যক্তি এই ইবাদত পালন করে না তার ব্যাপারে হাদীস শরীফে
এসেছে, ‘যার কুরবানীর সামর্থ্য রয়েছে কিন্তু কুরবানী করে না সে যেন আমাদের ঈদগাহে না
আসে।’-মুস্তাদরাকে হাকেম, হাদীস : ৩৫১৯; আত্তারগীব ওয়াত্তারহীব ২/১৫৫
ইবাদতের মূলকথা হল আল্লাহ তাআলার আনুগত্য এবং তাঁর সন্তুষ্টি অর্জন। তাই যেকোনো
ইবাদতের পূর্ণতার জন্য দুটি বিষয় জরুরি। ইখলাস তথা একমাত্র আল্লাহর সন্তুষ্টির উদ্দেশ্যে
পালন করা এবং শরীয়তের নির্দেশনা মোতাবেক মাসায়েল অনুযায়ী সম্পাদন করা। এ উদ্দেশ্যে
এখানে কুরবানীর কিছু জরুরি মাসায়েল উল্লেখ হল।
কার উপর কুরবানী ওয়াজিব
মাসআলা : ১. প্রাপ্তবয়স্ক, সুস্থমস্তিষ্ক সম্পন্ন প্রত্যেক মুসলিম নর-নারী, যে ১০ যিলহজ্ব ফজর
থেকে ১২ যিলহজ্ব সূর্যাস্ত পর্যন্ত সময়ের মধ্যে প্রয়োজনের অতিরিক্ত নেসাব পরিমাণ সম্পদের
মালিক হবে তার উপর কুরবানী করা ওয়াজিব। টাকা-পয়সা, সোনা-রূপা, অলঙ্কার, বসবাস ও
খোরাকির প্রয়োজন আসে না এমন জমি, প্রয়োজন অতিরিক্ত বাড়ি, ব্যবসায়িক পণ্য ও
অপ্রয়োজনীয় সকল আসবাবপত্র কুরবানীর নেসাবের ক্ষেত্রে হিসাবযোগ্য।
আর নিসাব হল স্বর্ণের ক্ষেত্রে সাড়ে সাত (৭.৫) ভরি, রূপার ক্ষেত্রে সাড়ে বায়ান্ন (৫২.৫)
ভরি, টাকা-পয়সা ও অন্যান্য বস্ত্তর ক্ষেত্রে নিসাব হল এর মূল্য সাড়ে বায়ান্ন তোলা রূপার
মূল্যের সমপরিমাণ হওয়া। আর সোনা বা রূপা কিংবা টাকা-পয়সা এগুলোর কোনো একটি যদি
পৃথকভাবে নেসাব পরিমাণ না থাকে কিন্তু প্রয়োজন অতিরিক্ত একাধিক বস্ত্ত মিলে সাড়ে
বায়ান্ন তোলা রূপার মূল্যের সমপরিমাণ হয়ে যায় তাহলেও তার উপর কুরবানী করা ওয়াজিব।-
আলমুহীতুল বুরহানী ৮/৪৫৫; ফাতাওয়া তাতারখানিয়া ১৭/৪০৫
নেসাবের মেয়াদ
মাসআলা ২. কুরবানীর নেসাব পুরো বছর থাকা জরুরি নয়; বরং কুরবানীর তিন দিনের মধ্যে যে
কোনো দিন থাকলেই কুরবানী ওয়াজিব হবে।-বাদায়েউস সানায়ে ৪/১৯৬, রদ্দুল মুহতার ৬/৩১২
কুরবানীর সময়
মাসআলা : ৩. মোট তিনদিন কুরবানী করা যায়। যিলহজ্বের ১০, ১১ ও ১২ তারিখ সূর্যাস্ত পর্যন্ত।
তবে সম্ভব হলে যিলহজ্বের ১০ তারিখেই কুরবানী করা উত্তম। -মুয়াত্তা মালেক ১৮৮, বাদায়েউস
সানায়ে ৪/১৯৮, ২৩, ফাতাওয়া হিন্দিয়া ৫/২৯৫
নাবালেগের কুরবানী
মাসআলা : ৪. নাবালেগ শিশু-কিশোর তদ্রূপ যে সুস্থমস্তিষ্কসম্পন্ন নয়, নেসাবের মালিক হলেও
তাদের উপর কুরবানী ওয়াজিব নয়। অবশ্য তার অভিভাবক নিজ সম্পদ দ্বারা তাদের পক্ষে
কুরবানী করলে তা সহীহ হবে।-বাদায়েউস সানায়ে ৪/১৯৬, রদ্দুল মুহতার ৬/৩১৬
মুসাফিরের জন্য কুরবানী
মাসআলা : ৫. যে ব্যক্তি কুরবানীর দিনগুলোতে মুসাফির থাকবে (অর্থাৎ ৪৮ মাইল বা প্রায় ৭৮
কিলোমিটার দূরে যাওয়ার নিয়তে নিজ এলাকা ত্যাগ করেছে) তার উপর কুরবানী ওয়াজিব নয়।
-ফাতাওয়া কাযীখান ৩/৩৪৪, বাদায়েউস সানায়ে ৪/১৯৫, আদ্দুররুল মুখতার ৬/৩১৫
নাবালেগের পক্ষ থেকে কুরবানী
মাসআলা : ৬. নাবালেগের পক্ষ থেকে কুরবানী দেওয়া অভিভাবকের উপর ওয়াজিব নয়; বরং
মুস্তাহাব।-রদ্দুল মুহতার ৬/৩১৫; ফাতাওয়া কাযীখান ৩/৩৪৫
দরিদ্র ব্যক্তির কুরবানীর হুকুম
মাসআলা : ৭. দরিদ্র ব্যক্তির উপর কুরবানী করা ওয়াজিব নয়; কিন্তু সে যদি কুরবানীর নিয়তে
কোনো পশু কিনে তাহলে তা কুরবানী করা ওয়াজিব হয়ে যায়। -বাদায়েউস সানায়ে ৪/১৯২
কুরবানী করতে না পারলে
মাসআলা : ৮. কেউ যদি কুরবানীর দিনগুলোতে ওয়াজিব কুরবানী দিতে না পারে তাহলে
কুরবানীর পশু ক্রয় না করে থাকলে তার উপর কুরবানীর উপযুক্ত একটি ছাগলের মূল্য সদকা করা
ওয়াজিব। আর যদি পশু ক্রয় করে ছিল, কিন্তু কোনো কারণে কুরবানী দেওয়া হয়নি তাহলে ঐ পশু
জীবিত সদকা করে দিবে।-বাদায়েউস সানায়ে ৪/২০৪, ফাতাওয়া কাযীখান ৩/৩৪৫
প্রথম দিন কখন থেকে কুরবানী করা যাবে
মাসআলা : ৯. যেসব এলাকার লোকদের উপর জুমা ও ঈদের নামায ওয়াজিব তাদের জন্য ঈদের
নামাযের আগে কুরবানী করা জায়েয নয়। অবশ্য বৃষ্টিবাদল বা অন্য কোনো ওজরে যদি প্রথম
দিন ঈদের নামায না হয় তাহলে ঈদের নামাযের সময় অতিক্রান্ত হওয়ার পর প্রথম দিনেও
কুরবানী করা জায়েয।-সহীহ বুখারী ২/৮৩২, কাযীখান ৩/৩৪৪, আদ্দুররুল মুখতার ৬/৩১৮
রাতে কুরবানী করা
মাসআলা : ১০. ১০ ও ১১ তারিখ দিবাগত রাতেও কুরবানী করা জায়েয। তবে দিনে কুরবানী
করাই ভালো। -মুসনাদে আহমাদ, হাদীস : ১৪৯২৭; মাজমাউয যাওয়াইদ ৪/২২, আদ্দুররুল মুখতার
৬/৩২০, কাযীখান ৩/৩৪৫, বাদায়েউস সানায়ে ৪/২২৩
কুরবানীর উদ্দেশ্যে ক্রয়কৃত পশু সময়ের পর যবাই করলে
মাসআলা : ১১. কুরবানীর দিনগুলোতে যদি জবাই করতে না পারে তাহলে খরিদকৃত পশুই সদকা
করে দিতে হবে। তবে যদি (সময়ের পরে) জবাই করে ফেলে তাহলে পুরো গোশত সদকা করে
দিতে হবে। এক্ষেত্রে গোশতের মূল্য যদি জীবিত পশুর চেয়ে কমে যায় তাহলে যে পরিমাণ মূল্য
হ্রাস পেল তা-ও সদকা করতে হবে।-বাদায়েউস সানায়ে ৪/২০২, আদ্দুররুল মুখতার ৬/৩২০-৩২১
কোন কোন পশু দ্বারা কুরবানী করা যাবে
মাসআলা : ১২. উট, গরু, মহিষ, ছাগল, ভেড়া ও দুম্বা দ্বারা কুরবানী করা জায়েয। এসব
গৃহপালিত পশু ছাড়া অন্যান্য পশু যেমন হরিণ, বন্যগরু ইত্যাদি দ্বারা কুরবানী করা জায়েয নয়। –
কাযীখান ৩/৩৪৮, বাদায়েউস সানায়ে ৪/২০৫
নর ও মাদা পশুর কুরবানী
মাসআলা : ১৩. যেসব পশু কুরবানী করা জায়েয সেগুলোর নর-মাদা দুটোই কুরবানী করা যায়। –
কাযীখান ৩/৩৪৮, বাদায়েউস সানায়ে ৪/২০৫
কুরবানীর পশুর বয়সসীমা
মাসআলা : ১৪. উট কমপক্ষে ৫ বছরের হতে হবে। গরু ও মহিষ কমপক্ষে ২ বছরের হতে হবে। আর
ছাগল, ভেড়া ও দুম্বা কমপক্ষে ১ বছরের হতে হবে। তবে ভেড়া ও দুম্বা যদি ১ বছরের কিছু কমও
হয়, কিন্তু এমন হৃষ্টপুষ্ট হয় যে, দেখতে ১ বছরের মতো মনে হয় তাহলে তা দ্বারাও কুরবানী করা
জায়েয। অবশ্য এক্ষেত্রে কমপক্ষে ৬ মাস বয়সের হতে হবে।
উল্লেখ্য, ছাগলের বয়স ১ বছরের কম হলে কোনো অবস্থাতেই তা দ্বারা কুরবানী জায়েয হবে
না। -কাযীখান ৩/৩৪৮, বাদায়েউস সানায়ে ৪/২০৫-২০৬
এক পশুতে শরীকের সংখ্যা
মাসআলা : ১৫. একটি ছাগল, ভেড়া বা দুম্বা দ্বারা শুধু একজনই কুরবানী দিতে পারবে। এমন
একটি পশু কয়েকজন মিলে কুরবানী করলে কারোটাই সহীহ হবে না। আর উট, গরু, মহিষে সর্বোচ্চ
সাত জন শরীক হতে পারবে। সাতের অধিক শরীক হলে কারো কুরবানী সহীহ হবে না। -সহীহ
মুসলিম ১৩১৮, মুয়াত্তা মালেক ১/৩১৯, কাযীখান ৩/৩৪৯, বাদায়েউস সানায়ে ৪/২০৭-২০৮
সাত শরীকের কুরবানী
মাসআলা : ১৬. সাতজনে মিলে কুরবানী করলে সবার অংশ সমান হতে হবে। কারো অংশ এক
সপ্তমাংশের কম হতে পারবে না। যেমন কারো আধা ভাগ, কারো দেড় ভাগ। এমন হলে কোনো
শরীকের কুরবানীই সহীহ হবে না। -বাদায়েউস সানায়ে ৪/২০৭
মাসআলা : ১৭. উট, গরু, মহিষ সাত ভাগে এবং সাতের কমে যেকোনো সংখ্যা যেমন দুই, তিন,
চার, পাঁচ ও ছয় ভাগে কুরবানী করা জায়েয। -সহীহ মুসলিম ১৩১৮, বাদায়েউস সানায়ে ৪/২০৭
কোনো অংশীদারের গলদ নিয়ত হলে
মাসআলা : ১৮. যদি কেউ আল্লাহ তাআলার হুকুম পালনের উদ্দেশ্যে কুরবানী না করে শুধু গোশত
খাওয়ার নিয়তে কুরবানী করে তাহলে তার কুরবানী সহীহ হবে না। তাকে অংশীদার বানালে
শরীকদের কারো কুরবানী হবে না। তাই অত্যন্ত সতর্কতার সাথে শরীক নির্বাচন করতে হবে। –
বাদায়েউস সানায়ে ৪/২০৮, কাযীখান ৩/৩৪৯
কুরবানীর পশুতে আকীকার অংশ
মাসআলা : ১৯. কুরবানীর গরু, মহিষ ও উটে আকীকার নিয়তে শরীক হতে পারবে। এতে কুরবানী ও
আকীকা দুটোই সহীহ হবে।-তাহতাবী আলাদ্দুর ৪/১৬৬, রদ্দুল মুহতার ৬/৩৬২
মাসআলা : ২০. শরীকদের কারো পুরো বা অধিকাংশ উপার্জন যদি হারাম হয় তাহলে কারো
কুরবানী সহীহ হবে না।
মাসআলা : ২১. যদি কেউ গরু, মহিষ বা উট একা কুরবানী দেওয়ার নিয়তে কিনে আর সে ধনী হয়
তাহলে ইচ্ছা করলে অন্যকে শরীক করতে পারবে। তবে এক্ষেত্রে একা কুরবানী করাই শ্রেয়।
শরীক করলে সে টাকা সদকা করে দেওয়া উত্তম। আর যদি ওই ব্যক্তি এমন গরীব হয়, যার উপর
কুরবানী করা ওয়াজিব নয়, তাহলে সে অন্যকে শরীক করতে পারবে না। এমন গরীব ব্যক্তি যদি
কাউকে শরীক করতে চায় তাহলে পশু ক্রয়ের সময়ই নিয়ত করে নিবে।-কাযীখান ৩/৩৫০-৩৫১,
বাদায়েউস সানায়ে ৪/২১০
কুরবানীর উত্তম পশু
মাসআলা : ২২. কুরবানীর পশু হৃষ্টপুষ্ট হওয়া উত্তম।-মুসনাদে আহমদ ৬/১৩৬, আলমগীরী ৫/৩০০,
বাদায়েউস সানায়ে ৪/২২৩
খোড়া পশুর কুরবানী
মাসআলা : ২৩. যে পশু তিন পায়ে চলে, এক পা মাটিতে রাখতে পারে না বা ভর করতে পারে না
এমন পশুর কুরবানী জায়েয নয়। -জামে তিরমিযী ১/২৭৫, সুনানে আবু দাউদ ৩৮৭, বাদায়েউস
সানায়ে ৪/২১৪, রদ্দুল মুহতার ৬/৩২৩, আলমগীরী ৫/২৯৭
রুগ্ন ও দুর্বল পশুর কুরবানী
মাসআলা : ২৪. এমন শুকনো দুর্বল পশু, যা জবাইয়ের স্থান পর্যন্ত হেঁটে যেতে পারে না তা
দ্বারা কুরবানী করা জায়েয নয়। -জামে তিরমিযী ১/২৭৫, আলমগীরী ৫/২৯৭, বাদায়েউস
সানায়ে ৪/২১৪
দাঁত নেই এমন পশুর কুরবানী
মাসআলা : ২৫. যে পশুর একটি দাঁতও নেই বা এত বেশি দাঁত পড়ে গেছে যে, ঘাস বা খাদ্য
চিবাতে পারে না এমন পশু দ্বারাও কুরবানী করা জায়েয নয়। -বাদায়েউস সানায়ে ৪/২১৫,
আলমগীরী ৫/২৯৮
যে পশুর শিং ভেঙ্গে বা ফেটে গেছে
মাসআলা : ২৬. যে পশুর শিং একেবারে গোড়া থেকে ভেঙ্গে গেছে, যে কারণে
মস্তিষ্ক ক্ষতিগ্রস্ত হয়েছে সে পশুর কুরবানী জায়েয নয়। পক্ষান্তরে যে পশুর অর্ধেক শিং বা
কিছু শিং ফেটে বা ভেঙ্গে গেছে বা শিং একেবারে উঠেইনি সে পশু কুরবানী করা জায়েয। –
জামে তিরমিযী ১/২৭৬, সুনানে আবু দাউদ ৩৮৮, বাদায়েউস সানায়ে ৪/২১৬, রদ্দুল মুহতার ৬/৩২৪,
আলমগীরী ৫/২৯৭
কান বা লেজ কাটা পশুর কুরবানী
মাসআলা : ২৭. যে পশুর লেজ বা কোনো কান অর্ধেক বা তারও বেশি কাটা সে পশুর কুরবানী
জায়েয নয়। আর যদি অর্ধেকের বেশি থাকে তাহলে তার কুরবানী জায়েয। তবে জন্মগতভাবেই
যদি কান ছোট হয় তাহলে অসুবিধা নেই। -জামে তিরমিযী ১/২৭৫, মুসনাদে আহমদ ১/৬১০, ইলাউস
সুনান ১৭/২৩৮, কাযীখান ৩/৩৫২, আলমগীরী ৫/২৯৭-২৯৮
অন্ধ পশুর কুরবানী
মাসআলা : ২৮. যে পশুর দুটি চোখই অন্ধ বা এক চোখ পুরো নষ্ট সে পশু কুরবানী করা জায়েয নয়। –
জামে তিরমিযী ১/২৭৫, কাযীখান ৩/৩৫২, আলমগীরী ২৯৭, বাদায়েউস সানায়ে ৪/২১৪
নতুন পশু ক্রয়ের পর হারানোটা পাওয়া গেলে
মাসআলা : ২৯. কুরবানীর পশু হারিয়ে যাওয়ার পরে যদি আরেকটি কেনা হয় এবং পরে
হারানোটিও পাওয়া যায় তাহলে কুরবানীদাতা গরীব হলে (যার উপর কুরবানী ওয়াজিব নয়) দুটি
পশুই কুরবানী করা ওয়াজিব। আর ধনী হলে কোনো একটি কুরবানী করলেই হবে। তবে দুটি কুরবানী
করাই উত্তম। -সুনানে বায়হাকী ৫/২৪৪, ইলাউস সুনান ১৭/২৮০, বাদায়েউস সানায়ে ৪/১৯৯,
কাযীখান ৩/৩৪৭
গর্ভবতী পশুর কুরবানী
মাসআলা : ৩০. গর্ভবতী পশু কুরবানী করা জায়েয। জবাইয়ের পর যদি বাচ্চা জীবিত পাওয়া যায়
তাহলে সেটাও জবাই করতে হবে। তবে প্রসবের সময় আসন্ন হলে সে পশু কুরবানী করা মাকরূহ। –
কাযীখান ৩/৩৫০
পশু কেনার পর দোষ দেখা দিলে
মাসআলা : ৩১. কুরবানীর নিয়তে ভালো পশু কেনার পর যদি তাতে এমন কোনো দোষ দেখা দেয়
যে কারণে কুরবানী জায়েয হয় না তাহলে ওই পশুর কুরবানী সহীহ হবে না। এর স্থলে আরেকটি
পশু কুরবানী করতে হবে। তবে ক্রেতা গরীব হলে ত্রুটিযুক্ত পশু দ্বারাই কুরবানী করতে পারবে। –
খুলাসাতুল ফাতাওয়া ৪/৩১৯, বাদায়েউস সানায়ে ৪/২১৬, ফাতাওয়া নাওয়াযেল ২৩৯, রদ্দুল
মুহতার ৬/৩২৫
পশুর বয়সের ব্যাপারে বিক্রেতার কথা
মাসআলা : ৩২. যদি বিক্রেতা কুরবানীর পশুর বয়স পূর্ণ হয়েছে বলে স্বীকার করে আর পশুর
শরীরের অবস্থা দেখেও তাই মনে হয় তাহলে বিক্রেতার কথার উপর নির্ভর করে পশু কেনা এবং
তা দ্বারা কুরবানী করা যাবে। -আহকামে ঈদুল আযহা, মুফতী মুহাম্মাদ শফী রহ. ৫
বন্ধ্যা পশুর কুরবানী
মাসআলা : ৩৩. বন্ধ্যা পশুর কুরবানী জায়েয। -রদ্দুল মুহতার ৬/৩২৫
নিজের কুরবানীর পশু নিজে জবাই করা
মাসআলা : ৩৪. কুরবানীর পশু নিজে জবাই করা উত্তম। নিজে না পারলে অন্যকে দিয়েও জবাই
করাতে পারবে। এক্ষেত্রে কুরবানীদাতা পুরুষ হলে জবাইস্থলে তার উপস্থিত থাকা ভালো। –
মুসনাদে আহমদ ২২৬৫৭, বাদায়েউস সানায়ে ৪/২২২-২২৩, আলমগীরী ৫/৩০০, ইলাউস সুনান
১৭/২৭১-২৭৪
জবাইয়ে একাধিক ব্যক্তি শরীক হলে
মাসআলা : ৩৫. অনেক সময় জবাইকারীর জবাই সম্পন্ন হয় না, তখন কসাই বা অন্য কেউ জবাই
সম্পন্ন করে থাকে। এক্ষেত্রে অবশ্যই উভয়কেই নিজ নিজ যবাইয়ের আগে ‘বিসমিল্লাহি আল্লাহু
আকবার’ পড়তে হবে। যদি কোনো একজন না পড়ে তবে ওই কুরবানী সহীহ হবে না এবং জবাইকৃত
পশুও হালাল হবে না। -রদ্দুল মুহতার ৬/৩৩৪
কুরবানীর পশু থেকে জবাইয়ের আগে উপকৃত হওয়া
মাসআলা : ৩৬. কুরবানীর পশু কেনার পর বা নির্দিষ্ট করার পর তা থেকে উপকৃত হওয়া জায়েয
নয়। যেমন হালচাষ করা, আরোহণ করা, পশম কাটা ইত্যাদি।সুতরাং কুরবানীর পশু দ্বারা এসব
করা যাবে না। যদি করে তবে পশমের মূল্য, হালচাষের মূল্য ইত্যাদি সদকা করে দিবে।-মুসনাদে
আহমদ ২/১৪৬, নায়লুল আওতার ৩/১৭২, ইলাউস সুনান ১৭/২৭৭, কাযীখান ৩/৩৫৪, আলমগীরী ৫/৩০০
কুরবানীর পশুর দুধ পান করা
মাসআলা : ৩৭. কুরবানীর পশুর দুধ পান করা যাবে না। যদি জবাইয়ের সময় আসন্ন হয় আর দুধ দোহন
না করলে পশুর
কষ্ট হবে না বলে মনে হয় তাহলে দোহন করবে না। প্রয়োজনে ওলানে ঠান্ডা পানি ছিটিয়ে
দেবে। এতে দুধের চাপ কমে যাবে। যদি দুধ দোহন করে ফেলে তাহলে তা সদকা করে দিতে হবে।
নিজে পান করে থাকলে মূল্য সদকা করে দিবে। -মুসনাদে আহমদ ২/১৪৬, ইলাউস সুনান ১৭/২৭৭,
রদ্দুল মুহতার ৬/৩২৯, কাযীখান ৩/৩৫৪, আলমগীরী ৫/৩০১
কোনো শরীকের মৃত্যু ঘটলে
মাসআলা : ৩৮. কয়েকজন মিলে কুরবানী করার ক্ষেত্রে জবাইয়ের আগে কোনো শরীকের মৃত্যু
হলে তার ওয়ারিসরা যদি মৃতের পক্ষ থেকে কুরবানী করার অনুমতি দেয় তবে তা জায়েয হবে।
নতুবা ওই শরীকের টাকা ফেরত দিতে হবে। অবশ্য তার
স্থলে অন্যকে শরীক করা যাবে। -বাদায়েউস সানায়ে ৪/২০৯, আদ্দুররুল মুখতার ৬/৩২৬, কাযীখান
৩/৩৫১
কুরবানীর পশুর বাচ্চা হলে
মাসআলা : ৩৯. কুরবানীর পশু বাচ্চা দিলে ওই বাচ্চা জবাই না করে জীবিত সদকা করে দেওয়া
উত্তম। যদি সদকা না করে তবে কুরবানীর পশুর সাথে বাচ্চাকেও জবাই করবে এবং গোশত সদকা
করে দিবে।-কাযীখান ৩/৩৪৯, আলমগীরী ৫/৩০১, রদ্দুল মুহতার ৬/৩২৩
মৃতের পক্ষ থেকে কুরবানী
মাসআলা : ৪০. মৃতের পক্ষ থেকে কুরবানী করা জায়েয। মৃত ব্যক্তি যদি ওসিয়ত না করে থাকে
তবে সেটি নফল কুরবানী হিসেবে গণ্য হবে। কুরবানীর স্বাভাবিক গোশতের মতো তা নিজেরাও
খেতে পারবে এবং আত্মীয়-স্বজনকেও দিতে পারবে। আর যদি মৃত ব্যক্তি কুরবানীর ওসিয়ত করে
গিয়ে থাকে তবে এর গোশত নিজেরা খেতে পারবে না। গরীব-মিসকীনদের মাঝে সদকা করে
দিতে হবে। -মুসনাদে আহমদ ১/১০৭, হাদীস ৮৪৫, ইলাউস সুনান ১৭/২৬৮, রদ্দুল মুহতার ৬/৩২৬,
কাযীখান ৩/৩৫২
কুরবানীর গোশত জমিয়ে রাখা
মাসআলা : ৪১. কুরবানীর গোশত তিনদিনেরও অধিক জমিয়ে রেখে খাওয়া জায়েয।-বাদায়েউস
সানায়ে ৪/২২৪, সহীহ মুসলিম ২/১৫৯, মুয়াত্তা মালেক ১/৩১৮, ইলাউস সুনান ১৭/২৭০
কুরবানীর গোশত বণ্টন
মাসআলা : ৪২. শরীকে কুরবানী করলে ওজন করে গোশত বণ্টন করতে হবে। অনুমান করে ভাগ করা
জায়েয নয়।-আদ্দুররুল মুখতার ৬/৩১৭, কাযীখান ৩/৩৫১
মাসআলা : ৪৩. কুরবানীর গোশতের এক তৃতীয়াংশ গরীব-মিসকীনকে এবং এক তৃতীয়াংশ আত্মীয়-
স্বজন ও পাড়া-প্রতিবেশীকে দেওয়া উত্তম। অবশ্য পুরো গোশত যদি নিজে রেখে দেয় তাতেও
কোনো অসুবিধা নেই। -বাদায়েউস সানায়ে ৪/২২৪, আলমগীরী ৫/৩০০
গোশত, চর্বি বিক্রি করা
মাসআলা : ৪৪. কুরবানীর গোশত, চর্বি ইত্যাদি বিক্রি করা জায়েয নয়। বিক্রি করলে পূর্ণ মূল্য
সদকা করে দিতে হবে। -ইলাউস সুনান ১৭/২৫৯, বাদায়েউস সানায়ে ৪/২২৫, কাযীখান ৩/৩৫৪,
আলমগীরী ৫/৩০১
জবাইকারীকে চামড়া, গোশত দেওয়া
মাসআলা : ৪৫. জবাইকারী, কসাই বা কাজে সহযোগিতাকারীকে চামড়া, গোশত বা কুরবানীর
পশুর কোনো কিছু পারিশ্রমিক হিসেবে দেওয়া জায়েয হবে না। অবশ্য পূর্ণ পারিশ্রমিক
দেওয়ার পর পূর্বচুক্তি ছাড়া হাদিয়া হিসাবে গোশত বা তরকারী দেওয়া যাবে।
জবাইয়ের অস্ত্র
মাসআলা : ৪৬. ধারালো অস্ত্র দ্বারা জবাই করা উত্তম।-বাদায়েউস সানায়ে ৪/২২৩
পশু নিস্তেজ হওয়া পর্যন্ত অপেক্ষা করা
মাসআলা : ৪৭. জবাইয়ের পর পশু
নিস্তেজ হওয়ার আগে চামড়া খসানো বা অন্য কোনো অঙ্গ কাটা মাকরূহ। -বাদায়েউস সানায়ে
৪/২২৩
অন্য পশুর সামনে জবাই করা
মাসআলা : ৪৮. এক পশুকে অন্য পশুর সামনে জবাই করবে না। জবাইয়ের সময় প্রাণীকে অধিক কষ্ট
না দেওয়া।
কুরবানীর গোশত বিধর্মীকে দেওয়া
মাসআলা : ৪৯. কুরবানীর গোশত হিন্দু ও অন্য ধর্মাবলম্বীকে দেওয়া জায়েয।-ইলাউস সুনান
৭/২৮৩, ফাতাওয়া হিন্দিয়া ৫/৩০০
অন্য কারো ওয়াজিব কুরবানী আদায় করতে চাইলে
মাসআলা : ৫০. অন্যের ওয়াজিব কুরবানী দিতে চাইলে ওই ব্যক্তির অনুমতি নিতে হবে। নতুবা ওই
ব্যক্তির কুরবানী আদায় হবে না। অবশ্য স্বামী বা পিতা যদি স্ত্রী বা সন্তানের বিনা
অনুমতিতে তার পক্ষ থেকে কুরবানী করে তাহলে তাদের কুরবানী আদায় হয়ে যাবে। তবে
অনুমতি নিয়ে আদায় করা ভালো।
কুরবানীর পশু চুরি হয়ে গেলে বা মরে গেলে
মাসআলা : ৫১. কুরবানীর পশু যদি চুরি হয়ে যায় বা মরে যায় আর কুরবানীদাতার উপর পূর্ব থেকে
কুরবানী ওয়াজিব থাকে তাহলে আরেকটি পশু কুরবানী করতে হবে। গরীব হলে (যার উপর
কুরবানী ওয়াজিব নয়) তার জন্য আরেকটি পশু কুরবানী করা ওয়াজিব নয়।-বাদায়েউস সানায়ে
৪/২১৬, খুলাসাতুল ফাতাওয়া ৪/৩১৯
পাগল পশুর কুরবানী
মাসআলা : ৫২. পাগল পশু কুরবানী করা জায়েয। তবে যদি এমন পাগল হয় যে, ঘাস পানি দিলে
খায় না এবং মাঠেও চরে না তাহলে সেটার কুরবানী জায়েয হবে না। -আননিহায়া ফী গরীবিল
হাদীস ১/২৩০, বাদায়েউস সানায়ে ৪/২১৬, ইলাউস সুনান ১৭/২৫২
নিজের কুরবানীর গোশত খাওয়া
মাসআলা : ৫৩. কুরবানীদাতার জন্য নিজ কুরবানীর গোশত খাওয়া মুস্তাহাব। -সূরা হজ্ব ২৮, সহীহ
মুসলিম ২২/১৫৯, মুসনাদে আহমদ, হাদীস ৯০৭৮, বাদায়েউস সানায়ে ৪/২২৪
ঋণ করে কুরবানী করা
মাসআলা : ৫৪. কুরবানী ওয়াজিব এমন ব্যক্তিও ঋণের টাকা দিয়ে কুরবানী করলে ওয়াজিব
আদায় হয়ে যাবে। তবে সুদের উপর ঋণ নিয়ে কুরবানী করা যাবে না।
হাজীদের উপর ঈদুল আযহার কুরবানী
মাসআলা : ৫৫. যেসকল হাজী কুরবানীর দিনগুলোতে মুসাফির থাকবে তাদের উপর ঈদুল আযহার
কুরবানী ওয়াজিব নয়। কিন্তু যে হাজী কুরবানীর কোনো দিন মুকীম থাকবে সামর্থ্যবান হলে
তার উপর ঈদুল আযহার কুরবানী করা জরুরি হবে। -ফাতাওয়া হিন্দিয়া ৫/২৯৩, আদ্দুররুল মুখতার
৬/৩১৫, বাদায়েউস সানায়ে ৪/১৯৫, ইমদাদুল ফাতাওয়া ২/১৬৬
নবী কারীম সাল্লাল্লাহু আলাইহি ওয়াসাল্লামের পক্ষ থেকে কুরবানী করা
মাসআলা : ৫৬. সামর্থ্যবান ব্যক্তির রাসূলুল্লাহ সাল্লাল্লাহু আলাইহি ওয়াসাল্লামের পক্ষ
থেকে কুরবানী করা উত্তম। এটি বড় সৌভাগ্যের বিষয়ও বটে। নবী কারীম সাল্লাল্লাহু আলাইহি
ওয়াসাল্লাম আলী রা.কে তার পক্ষ থেকে কুরবানী করার ওসিয়্যত করেছিলেন। তাই তিনি
প্রতি বছর রাসূলুল্লাহ সাল্লাল্লাহু আলাইহি ওয়াসাল্লামের পক্ষ থেকেও কুরবানী দিতেন। –
সুনানে আবু দাউদ ২/২৯, জামে তিরমিযী ১/২৭৫, ইলাউস সুনান ১৭/২৬৮, মিশকাত ৩/৩০৯
কোন দিন কুরবানী করা উত্তম
মাসআলা : ৫৭. ১০, ১১ ও ১২ এ তিন দিনের মধ্যে প্রথম দিন কুরবানী করা অধিক উত্তম। এরপর
দ্বিতীয় দিন, এরপর তৃতীয় দিন। -রদ্দুল মুহতার ৬/৩১৬
খাসীকৃত ছাগল দ্বারা কুরবানী
মাসআলা : ৫৮. খাসিকৃত ছাগল দ্বারা কুরবানী করা উত্তম। -ফাতহুল কাদীর ৮/৪৯৮, মাজমাউল
আনহুর ৪/২২৪, ইলাউস সুনান ১৭/৪৫৩
জীবিত ব্যক্তির নামে কুরবানী
মাসআলা : ৫৯. যেমনিভাবে মৃতের পক্ষ থেকে ঈসালে সওয়াবের উদ্দেশ্যে কুরবানী করা
জায়েয তদ্রূপ জীবিত ব্যক্তির পক্ষ থেকে তার ইসালে সওয়াবের জন্য নফল কুরবানী করা
জায়েয। এ কুরবানীর গোশত দাতা ও তার পরিবারও খেতে পারবে।
বিদেশে অবস্থানরত ব্যক্তির কুরবানী অন্যত্রে করা
মাসআলা : ৬০. বিদেশে অবস্থানরত ব্যক্তির জন্য নিজ দেশে বা অন্য কোথাও কুরবানী করা
জায়েয।
কুরবানীদাতা ভিন্ন স্থানে থাকলে কখন জবাই করবে
মাসআলা : ৬১. কুরবানীদাতা এক স্থানে আর কুরবানীর পশু ভিন্ন স্থানে থাকলে কুরবানীদাতার
ঈদের নামায পড়া বা না পড়া ধর্তব্য নয়; বরং পশু যে এলাকায় আছে ওই এলাকায় ঈদের জামাত
হয়ে গেলে পশু জবাই করা যাবে। -আদ্দুররুল মুখতার ৬/৩১৮
কুরবানীর চামড়া বিক্রির অর্থ সাদকা করা
মাসআলা : ৬২. কুরবানীর চামড়া কুরবানীদাতা নিজেও ব্যবহার করতে পারবে। তবে কেউ যদি
নিজে ব্যবহার না করে বিক্রি করে তবে বিক্রিলব্ধ মূল্য পুরোটা সদকা করা জরুরি। -আদ্দুররুল
মুখতার, ফাতাওয়া হিন্দিয়া ৫/৩০১
কুরবানীর চামড়া বিক্রির নিয়ত
মাসআলা : ৬৩. কুরবানীর পশুর চামড়া বিক্রি করলে মূল্য সদকা করে দেওয়ার নিয়তে বিক্রি
করবে। সদকার নিয়ত না করে নিজের খরচের নিয়ত করা নাজায়েয ও গুনাহ। নিয়ত যা-ই হোক
বিক্রিলব্ধ অর্থ পুরোটাই সদকা করে দেওয়া জরুরি। -ফাতাওয়া হিন্দিয়া ৫/৩০১, কাযীখান
৩/৩৫৪
কুরবানীর শেষ সময়ে মুকীম হলে
মাসআলা : ৬৪. কুরবানীর সময়ের প্রথম দিকে মুসাফির থাকার পরে ৩য় দিন কুরবানীর সময় শেষ
হওয়ার পূর্বে মুকীম হয়ে গেলে তার উপর কুরবানী ওয়াজিব হবে। পক্ষান্তরে প্রথম দিনে মুকীম
ছিল অতপর তৃতীয় দিনে মুসাফির হয়ে গেছে তাহলেও তার উপর কুরবানী ওয়াজিব থাকবে না।
অর্থাৎ সে কুরবানী না দিলে গুনাহগার হবে না। -বাদায়েউস সানায়ে ৪/১৯৬, ফাতাওয়া
খানিয়া ৩/৩৪৬, আদ্দুররুল মুখতার ৬/৩১৯
কুরবানীর পশুতে ভিন্ন ইবাদতের নিয়তে শরীক হওয়া
মাসআলা : ৬৫. এক কুরবানীর পশুতে আকীকা, হজ্বের কুরবানীর নিয়ত করা যাবে। এতে
প্রত্যেকের নিয়তকৃত ইবাদত আদায় হয়ে যাবে।-বাদায়েউস সানায়ে ৪/২০৯, রদ্দুল মুহতার ৬/৩২৬,
আলমাবসূত সারাখছী ৪/১৪৪, আলইনায়া ৮/৪৩৫-৩৪৬, আলমুগনী ৫/৪৫৯
কুরবানীর গোশত দিয়ে খানা শুরু করা
মাসআলা : ৬৬. ঈদুল আযহার দিন সর্বপ্রথম নিজ কুরবানীর গোশত দিয়ে খানা শুরু করা সুন্নত।
অর্থাৎ সকাল থেকে কিছু না খেয়ে প্রথমে কুরবানীর গোশত খাওয়া সুন্নত। এই সুন্নত শুধু ১০
যিলহজ্বের জন্য। ১১ বা ১২ তারিখের গোশত দিয়ে খানা শুরু করা সুন্নত নয়। -জামে তিরমিযী
১/১২০, শরহুল মুনয়া ৫৬৬, আদ্দুররুল মুখতার ২/১৭৬, আলবাহরুর রায়েক ২/১৬৩
কুরবানীর পশুর হাড় বিক্রি
মাসআলা : ৬৭. কুরবানীর মৌসুমে অনেক মহাজন কুরবানীর হাড় ক্রয় করে থাকে। টোকাইরা বাড়ি
বাড়ি থেকে হাড় সংগ্রহ করে তাদের কাছে বিক্রি করে। এদের ক্রয়-বিক্রয় জায়েয। এতে
কোনো অসুবিধা নেই। কিন্তু কোনো কুরবানীদাতার জন্য নিজ কুরবানীর কোনো কিছু এমনকি
হাড়ও বিক্রি করা জায়েয হবে না। করলে মূল্য সদকা করে দিতে হবে। আর জেনে শুনে
মহাজনদের জন্য এদের কাছ থেকে ক্রয় করাও বৈধ হবে না। -বাদায়েউস সানায়ে ৪/২২৫,
কাযীখান ৩/৩৫৪, ফাতাওয়া হিন্দিয়া ৫/৩০১
রাতে কুরবানী করা
মাসআলা : ৬৮. ১০ ও ১১ তারিখ দিবাগত রাতে কুরবানী করা জায়েয। তবে রাতে
আলোস্বল্পতার দরুণ জবাইয়ে ত্রুটি হতে পারে বিধায় রাতে জবাই করা অনুত্তম। অবশ্য পর্যাপ্ত
আলোর ব্যবস্থা থাকলে রাতে জবাই করতে কোনো অসুবিধা নেই। -ফাতাওয়া খানিয়া ৩/৩৪৫,
আদ্দুররুল মুখতার ৬/৩২০, ফাতাওয়া হিন্দিয়া ৫/২৯৬, আহসানুল ফাতাওয়া ৭/৫১০
কাজের লোককে কুরবানীর গোশত খাওয়ানো
মাসআলা : ৬৯. কুরবানীর পশুর কোনো কিছু পারিশ্রমিক হিসাবে দেওয়া জায়েয নয়। গোশতও
পারিশ্রমিক হিসেবে কাজের লোককে দেওয়া যাবে না। অবশ্য এ সময় ঘরের অন্যান্য সদস্যদের
মতো কাজের লোকদেরকেও গোশত খাওয়ানো যাবে।-আহকামুল কুরআন জাস্সাস ৩/২৩৭,
বাদায়েউস সানায়ে ৪/২২৪, আলবাহরুর রায়েক ৮/৩২৬, ইমদাদুল মুফতীন
জবাইকারীকে পারিশ্রমিক দেওয়া
মাসআলা : ৭০. কুরবানী পশু জবাই করে পারিশ্রমিক দেওয়া-নেওয়া জায়েয। তবে কুরবানীর পশুর
কোনো কিছু পারিশ্রমিক হিসাবে দেওয়া যাবে না। -কিফায়াতুল মুফতী ৮/২৬৫
মোরগ কুরবানী করা
মাসআলা : ৭১. কোনো কোনো এলাকায় দরিদ্রদের মাঝে মোরগ কুরবানী করার প্রচলন আছে।
এটি না জায়েয। কুরবানীর দিনে মোরগ জবাই করা নিষেধ নয়, তবে কুরবানীর নিয়তে করা
যাবে না। -খুলাসাতুল ফাতাওয়া ৪/৩১৪, ফাতাওয়া বাযযাযিয়া ৬/২৯০, আদ্দুররুল মুখতার ৬/৩১৩,
ফাতাওয়া হিন্দিয়া ৫/২০০ ষ
____মাসিক আল কাওসার